BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2004, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سے نمٹنے پر بات چیت
ظفر اللہ جمالی
ظفر اللہ جمالی کا یہ پہلا دورہ کابل ہے

وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے افغانستان کا ایک روزہ دورے کے بعد کہا ہے دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نےدورے سے واپسی پر ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کے رویے میں پاکستان کے بارے میں مثبت تبدیلی پائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرزئی حکومت نے پاکستان کی طرف سے ایک سو چورانوے افغان قیدیوں کو رہا کرنے کے فیصلے کو سرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام نے پاکستانیوں کو سردیوں میں لواری ٹاپ بند ہونے کی صورت میں افغان سرزمیں سے ہوکر شمالی علاقوں میں جانے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کابل میں قیام کے دوران افغان صدر حامد کرزئی سے دہشت گردی سمیت دو طرفہ امور پر بات چیت کی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم پیر کی صبح افغانستان کے ایک روزہ دورے پر کابل گئِے تھے۔ کابل پہنچنے پر انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کر اس مسئلہ سے نمٹنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ’ دہشت گردی کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ یہ کسی بھی جگہ، کسی بھی حصے اور کسی بھی گروپ کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔‘

پاکستانی وزیر اعظم اور افغان صدر کے درمیان علیحدگی میں ہونے والی ملاقات میں اور پاکستانی وفد اور افغان حکام کی ملاقاتوں میں جو امور خاص طور پر زیر بحث آئے ان میں دونوں ملکوں کے مشترکہ بارڈ پر سکیورٹی کی صورت حال اور افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان کا کردار سرفہرست رہے۔

وزیر اعظم جمالی کے کابل پہنچنے سے پہلے ہی پاکستانی حکام کا ایک وفد کابل کے دورے پر تھا جہاں وہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے لیے دس لاکھ ڈالر کی امداد کی تفصیلات طے کرنے میں مصروف ہے۔ اس مدد کا اعلان پاکستان نے گزشتہ سال کیا تھا

طالبان حکومت کے خاتمے اور کابل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ پاکستان کے سربراہ حکومت کی طرف سے افغانستان کا پہلا دورہ ہے۔

گو کےدونوں ملکوں کی حکومتیں عالمی دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی رہی ہیں لیکن سابق طالبان تحریک کے ارکان کی سرگرمیوں کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پر دونوں ملکوں میں خاصے اختلافات اور بدگمانیاں پائی جاتی ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق اس دورے کا مقصد حالیہ مہینوں میں دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی بداعتمادی کو دور کرنا ہے۔

پاکستان سے ملحقہ افغانستان کے جنوب مشرقی علاقوں میں جب سے طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

صدر حامد کرزئی اور دیگر افغان وزراء پاکستان پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان سرحدی علاقوں میں طالبان کو منظم ہونے سے روکنے کے لیے نرمی سے کام لے رہا ہے۔

پاکستان اس طرح کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور کابل حکومت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی پختوں آبادی کی ہمدردیاں جیتنے کے لیے مذید اقدامات کرے۔

پاکستان کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی نے کابل روانگی سے قبل کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں طالبان کی کارروائیاں روکنے کے لیے بھی پاکستان مزید اقدامات کرے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد