برطانوی خودکش بمبار‘ ٹیپ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے ایک ویڈیو ٹیپ جاری کی ہے جس میں اُن دو برطانوی شہریوں کو دکھایا گیا ہے جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک برس قبل ان افراد کو خودکش حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ لندن سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ آصف حنیف نے گزشتہ اپریل خود کو تِل ابیب میں دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوئے تھے۔ ڈربی کے ستائیس سالہ عمر خان شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب ان کے جسم سے بندھا دھماکہ خیز مواد موقعہ پر نہ پٹھا تو وہ فرار ہو گئے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ برطانوی باشندے دہشتگردوں کی مسلط کردہ اس جنگ کا حصہ تھے جو حماس نے اسرائیل میں برپا کر رکھی ہے۔ حماس نے اپنے عسکری لیڈر ابراہیم المقدمہ کی ہلاکت کی برسی کے موقعہ پر پیر کو یہ ویڈیو ٹیم جاری کیا ہے جو اسرائیلی ہیلی کاپٹر سے کئے گئے راکٹ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ راکٹ غزہ شہر میں ابراہیم المقدمہ کی گاڑی پر داغہ گیا تھا۔ آصف حنیف نے ساحل سمندر پر واقع ایک شراب خانہ کے باہر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جبکہ عمر خان شریف کی نعش بعد میں اسرائیلی ساحل سے ملی تھی۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی خودکش بمبار نے ویڈیو ٹیپ پر اپنے مقاصد تفصیلاً ریکارڈ کئے ہوں کیونکہ عام طور پر ایسے حملہ آور قرآن کی چند آیتوں کی تلاوت کرتے ہی نظر آتے ہیں۔ پیر کو جاری کردہ اس ویڈیوں ٹیم میں دونوں حملہ آوروں کو رائفلیں لہراتا دکھایا گیا ہے اور وہ خدا سے دعاگو ہیں کہ وہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بیئر اور امریکی صدر جارج بش کو سزا دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||