| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شدت پسند مذاکرات پر تیار
فلسطینی شدت پسند گروپوں حماس اور اسلامی جہاد مصر میں مذاکرات کے انعقاد پر رضا مند ہوگئے ہیں جہاں اسرائیل کے خلاف جنگ بندی کا امکان پر بات چیت ہوگی۔ دونوں گروپوں نے کہا ہے کہ انہوں نے مصری ثالثوں کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہےکہ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے پر دو دسمبر کو قاہرہ میں گفتگو کی جائے گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا منصوبہ اس وقت ناکامی کا شکار ہوگیا تھا جب اس سال اگست میں ان دونوں گروپوں کی طرف سے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات کا وہ دھڑا جو فتح گروپ کے نام سے جانا جاتا ہے، قاہرہ میں ہونے والا مذاکرات میں شریک ہوگا۔ شدت پسند فلسطینی گرپوں نے فلسطینی وزیرِ اعظم احمد قریع اور مصری مذاکرات کاروں سے غزہ میں گفتگو کے بعد مصر میں ہونے والی بات چیت میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ گزشتہ ہفتے فلسطینی کابینہ کی حلف برداری کے بعد اسرائیلیوں پر حملے روکنے کی یہ پہلی اہم کوشش تصور کی جا رہی ہے۔ فلسطینی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح مختلف فلسطینی گروپوں کو جنگ بندی پر آمادہ کرنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے لئے امن منصوبے پر بات چیت کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ اسلامی جہاد کے ترجمان نے غزہ میں ہونے والی بات چیت سے قبل یہ کہا تھا: ’امن کے کسی بھی نئے منصوبے یا کسی بھی نئی تجویز میں اس بات کی ضمانت دی جائے کہ ’دشمن‘ ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہیں کرے گا اور جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔‘ تاہم حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین نے اسرائیل کے خلاف حملے روکنے کے کسی بھی طرح کے فوری امکان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ جنگ بندی ماضی میں اس لئے ختم ہو گئی تھی کہ اسرائیل امن نہیں چاہتا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||