کشمیر میں تشدد اور احتجاج کو دو ماہ مکمل

،تصویر کا ذریعہAP
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا احتجاج کا سلسلہ تیسرے ماہ میں داخل ہوگیا ہے۔
آٹھ جولائی کو سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں ہونے والی ہلاکت کے بعد کشمیر میں احتجاج اور تشدد کا جو دور شروع ہوا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
اس احتجاجی لہر کے دوران اب تک 70 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ ہزاروں شہری اور سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں جوان زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں میں سے درجنوں ایسے ہیں جو آنکھ میں چھرّے لگنے کی وجہ سے بینائی سے بھی محروم ہو چکے ہیں جبکہ ہلاک شدگان میں سے اکثریت نوجوانوں کی ہے۔
اس صورت حال پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انڈیا کی مرکزی حکومت شدید دباؤ میں ہے۔
بدھ کو برہانی وانی کی ہلاکت کے دو ماہ مکمل ہونے پر کلگام، پلوامہ اور شوپیاں میں چار بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے جن کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 60 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی ہندی کو بتایا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور کلگام میں ایک سکول میں آگ لگا دی۔
انڈیا کی خبر رساں پی ٹی آئی کے مطابق مقامی آبادی نے الزام لگایا ہے کہ احتجاج کے دوران آنسو گیس کا گولہ پھٹنے کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے کلگام کے رہائشی 72 سالہ ظہور عباس کا انتقال ہوگیا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے علاوہ دارالحکومت سری نگر میں بھی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
سری نگر سمیت وادی کے تمام بڑے قصبوں میں اب بھی سکیورٹی فورسز کی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ وادی میں تعلیمی ادارے، دکانیں اور پٹرول پمپ بھی بند ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ تین بار سری نگر کے دورے کر چکے ہیں تاہم ان کے یہ دورے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے ہیں اور سماجی تنظیموں اور تاجروں تک نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔
بھارتی وزیر داخلہ کی قیادت میں حال ہی میں ایک کل جماعتی وفد نے بھی اس ہفتے سری نگر کا دورہ کیا اور 300 سے زیادہ لوگوں سے ملاقات کی۔
وفد میں شامل کچھ رہنماؤں نے ذاتی طور پر علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملنے کی بھی کوشش کی لیکن سب سے زیادہ حریت رہنماؤں نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔
اس وفد نے بدھ کو راج ناتھ سنگھ کے ساتھ دہلی میں ایک بار پھر ملاقات کی جس میں طے کیا گیا کہ کشمیر پر بات تو ہوگی لیکن خودمختاری کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔







