کشمیر میں تشدد جاری، ایک اور نوجوان ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت سے علیحدگی کے لیے جاری مظاہروں میں منگل کو اننت ناگ کے علاقے میں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
شیر ہمدان ہسپتال کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے 21 سالہ نوجوان نصیر کے سینے میں دل کے قریب چھرّا لگا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی۔
ہسپتال کے ذرائع کے مطابق زخم سے اندازہ ہوتا ہے کہ نصیر کو لگنے والا چھرّا قریب سے فائر کیے جانے والے کارتوس کا تھا۔
گذشتہ روز انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سری نگر میں کہا تھا کہ کشمیر میں انسانی جانوں کا زیاں روکنے کے لیے چھرے والے کارتوسوں کی جگہ مرچوں والے کارتوس استعمال کیے جائیں گے۔
جولائی کی آٹھ تاریخ سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقے نوجوان برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد سے شدید مظاہروں کی زد میں ہیں۔ ان ہنگاموں کو کشمیر کی حالیہ تاریخ میں بدترین قرار دیا جا رہا ہے جن میں اب تک بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔
دو ماہ میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے علاوہ انڈین سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر چھرّوں والے کارتوسوں کے بے دریغ استعمال سے سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان جزوی یا مکمل طور پر نابینا ہو گئے ہیں۔
اس صورت حال پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا جن کی وجہ سے انڈیا کی مرکزی حکومت شدید دباؤ میں ہے۔



