پتنگ بازی کو محفوظ بنانا ایک بڑا چیلینج

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں میں پتنگ بازی ایک مقبول کھیل ہے۔ ایک وقت میں تو اس کے بڑے بڑے مقابلے ہوتے تھے اور لوگ ایک دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے لیے آسمان میں ہی اپنی پتنگوں سے ہی خظرناک لڑائیاں لڑا کرتے تھے۔
لیکن اب پتنگ بازی کا شمار بھی خطرناک مشغلوں میں ہونے لگا ہے اور پاکستان اور انڈیا دونوں جگہ اس میں استعمال ہونے والی ڈور سے ہلاکتوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
گجرات میں پتنگ بازی کے ایک کلب کے بانی میہول پاتھک کہتے ہیں کہ ’اب بہت سے لوگوں کے لیے پتنگ بازی تفریحی کھیل نہیں رہا۔ پتنگ اڑانے والے اب خطرناک قسم کا مانجھا استعمال کرتے ہیں اور روایتی سوتی دھاگہ بھول چکے ہیں۔‘
آج کل پتنگ اڑانے کے لیے استعمال میں آنے والے مانجھے پر دھات یا پسا ہوا کانچ چڑھا ہوتا ہے تاکہ مخالف شخص کی پتنگ کو اس کی مدد سے جلدی کاٹا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گذشتہ چند برسوں سے بہت سے پتنگ بازوں نے شیشہ لگا ہوا نائلن کا دھاگہ بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو روایتی دھاگے کے مقابلے میں بہت مضبوط ہونے کے ساتھ ہی خطرناک بھی ہوتا ہے۔
اور اس قسم کے مانجھے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے راہ گیروں یا موٹرسائیکل پر سوار لوگوں کے گلے پر پِھر جانے سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
اس ہفتے میں اس طرح کے مانجھے سے دہلی میں جن دو بچوں کی موت واقع ہوئی وہ اپنی گاڑی کی کھڑی سے باہر دیکھ رہے تھے کہ پتنگ کی ڈور نے ان کی زندگی کی ڈور ہی کاٹ دی۔
کئی بار ایسے کیمیکل مانجھے بجلی کے تاروں پرگرتے ہیں جس سے پتنگ اڑانے والے کو بجلی کا کرنٹ لگتا ہے اور اس سے بھی ان کی جان چلی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
لیکن پتنگ اڑانے میں اس کا مانجھا ہی خطرناک ہی ہے۔ کئی بار پتنگ اڑانے والے لوگ اس میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ بے خیالی میں پتنگ اڑاتے اڑاتے چھت سے نیچے گر جاتے ہیں۔
اس کا ایک پہلو کٹی پتنگ کا لوٹنا بھی ہے۔ کٹی پتنگوں کا پیچھا کرنے والے لڑکوں کے گروہ کئی بار ٹریفک کا نظام تک درہم برہم کر کے رکھ دیتے ہیں۔
گذشتہ پیر کو مانجھے سے ہونے والی اموات کے بعد سے لوگوں میں اس طرح کے مانجھے کی خرید و فروخت پر غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ ایسا تقریبا ہر برس ہوتا آیا ہے۔
اس سے قبل چنئی میں پتنگ بازوں نے اسی طرح کا مانجھا استعمال کیا تھا اور وہاں گذشتہ تین برسوں میں چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس نے ایسے مانجھے سے پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
پتنگ بازی کو محفوظ بنانے کے لیے کئی طرح کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں اور کئی بار اس پر پوری طرح سے پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSalman Saeed
پاکستان میں پنجاب سمیت کئی علاقوں میں پتنگ بازی پر کئی برس سے پابندی عائد ہے اور پولیس ہر سال بڑی تعداد میں پتنگ بازوں کو گرفتار کر کے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں ضبط کرتی ہے۔
انڈیا میں بھی پنجاب، مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں میں اس طرح کے مانجھے سے پتنگ اڑانے پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے۔
دارالحکومت دہلی میں بھی اسی طرح کا ایک قانون موجود ہے جس کے مطابق ایسی پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہو۔

،تصویر کا ذریعہROHIT GHOSH
لیکن اس طرح کے قوانین کا نفاذ جہاں مشکل ہے وہیں بہت سے لوگ ایسے مانجھے اور پتنگیں اب خود اپنے گھر پر تیار کر لیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا سراغ لگانا بھی مشکل ہے کہ ہلاکت کی وجہ بننے والی ڈور کس کی تھی یا کس کی لاپرواہی سے وہ سڑک پر لٹک رہی تھی اور کسی کو ہلاک یا زخمی کرنے کی وجہ بنی۔
تو پتنگ بازی کا کھیل جہاں یونہی لوگوں میں مقبول رہے گا وہیں اس کو محفوظ بنانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہی رہے گا۔







