کانگریس پارٹی آپریشن تھیئٹر میں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
اگر انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کو کچھ دیر کے لیے بھلا دیا جائے تو بھارت کے نقشے پر کانگریس پارٹی کی حکمرانی والے علاقے تلاش کرنا اب آسان کام نہیں۔
پہاڑی ریاست اتراکھنڈ، جہاں کانگریس بہ مشکل حکومت میں ہے، اور شمال مشرق کی چند ایسی چھوٹی ریاستیں جو قومی سیاست میں حاشیے پر ہی مانی جاتی ہیں، اب بھی کانگریس کا پرچم لہرا رہی ہیں۔ مجموعی طور پر کانگریس اب سوا ارب میں سے تقریباً سات کروڑ لوگوں پر حکمرانی کر رہی ہے۔
لیکن کانگریس کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ان ریاستوں میں بھی آئندہ ایک ڈیڑھ سال میں الیکشن ہونے والے ہیں۔
کانگریس ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے، اور مبصرین کے مطابق سیاسی منظرنامے سے اس کے یوں اچانک غائب ہوجانے سے علاقائی پارٹیاں اور مضبوط ہوں گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ بی جے پی کو چیلنج کرنا اور مشکل ہو جائے گا جو اب ’ہندی ہارٹ لینڈ‘ یا ’کاؤ بیلٹ‘ کی پارٹی کی شبیہ ترک کر کے ایک قومی پارٹی کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہafp
اس کی وجہ یہ ہے کہ علاقائی جماعتوں کے سیاسی نظریات اور ایجنڈے کہیں مختلف ہیں تو کہیں متضاد، اور ان کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آنا ناممکن تو نہیں لیکن بہت مشکل ضرور ہے۔ مختلف سیاسی نظریات کی ’کھچڑی‘ سرکاریں 1977 سے کئی مرتبہ آزمائش کے عمل سے گزر چکی ہیں لیکن کبھی ٹک نہیں سکیں۔
قومی سیاست پر اب بی جے پی کا غلبہ ہے اور اس کے مد مقابل ہیں اترپردیش میں مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو جو خود ایک دوسرے کے خلاف ہیں، بہار میں نتیش کمار اور لالو پر ساد یادو جو فی الحال ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، دہلی میں اروند کیجری وال، کیرالہ میں بائیں بازو کی جماعتیں، مغربی بنگال میں ممتا بنرجی جو بی جے پی کے خلاف مورچہ کھولنے میں پہل کر سکتی ہیں، تیلنگانہ میں کے سی چندرشیکھر اور تمل ناڈو میں جیہ للتا جو ماضی میں بی جے پی کے ساتھ بھی رہ چکی ہیں اور خلاف بھی۔

کانگریس کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ بی جے پی کے خلاف اگر کوئی محاذ قائم ہوتا ہے تو کانگریس کو اس کی قیادت ملنے کی کوئی ضمانت نہیں اور اسے ایک جونیئر پارٹنر کا رول قبول کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی ممکنہ بی جے پی مخالف اتحاد کی قیادت کے اب کئی مضبوط دعویدار ہیں جن میں نتیش کمار، ممتا بنرجی، ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی سر فہرست ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ رہنما کسی دوسرے کی قیادت تسلیم کرسکتے ہیں کیونکہ 2019 میں داؤ پر وزیر اعظم کی کرسی ہوگی۔
پارلیمانی جمہوریت میں مضبوط حزب اختلاف کا اہم کردار ہوتا ہے لیکن لوک سبھا میں صرف 44 سیٹوں کے ساتھ کانگریس ایک موثر اپوزیشن کا رول نبھانے میں ناکام رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی لیے کانگریس کے سینیئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے انتخابی نتائج کے بعد کہا ہے کہ پارٹی کو بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔ سابق وفاقی وزیر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ تجزیوں کا وقت گزر چکا ہے، اب کچھ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس طرح کے بیانات کانگریس کے کلچر کے خلاف ہیں، لیکن ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کو بھی اب لگتا ہے کہ پانی سر سے گزر گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس قیادت کے فقدان کا شکار ہے اور پارلیمانی انتخابات میں شکست فاش کے باوجود صورت حال کو سنبھالنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
کئی برسوں سے یہ ذکر جاری ہے کہ راہول گاندھی پارٹی کے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے لیکن ایسا ہوتا نہیں، کانگریس کی قیادت پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ کچھ راہول گاندھی پوری ذمہ داری لینے سے جھجکتے ہیں اور کچھ سونیا گاندھی کی ’کچن کیبینٹ‘ فی الحال اقتدار کی منتقلی کو مؤخر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
عام تاثر یہ ہے کہ کانگریس کو اب ایک نئے ’اوتار‘ میں سامنے آنا ہوگا، بدعنوان اور اندرونی چپقلش کا شکار پارٹی کی امیج سے چھٹکارا پانا ہوگا، لیکن جیسا دگ وجے سنگھ نے کہا اس کے لیے بڑی سرجری کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے وقت گزرتا جا رہا ہے۔
اگلی بڑی جنگ آئندہ برس اتر پردیش میں ہوگی، لیکن اپنے سب سے قدآور رہنماؤں کی سرزمین سے اس کے قدم پہلے ہی اکھڑ چکے ہیں۔ کانگریس کے لیے شاید یہ آخری موقع ہوگا، اس کے لیے لکھنؤ سے ایک راستہ دہلی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا تاریخ کی۔







