انڈيا: پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات، ووٹوں کی گنتی جاری

،تصویر کا ذریعہAP
انڈيا کی پانچ ریاستوں مغربی بنگال، آسام، کیرالا، تمل ناڈو اور پڈّوچیری میں ہونے والے اسبملی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے لیکن تازہ رجحانات سے پارٹی پوزیشن تقریباً واضح ہوچکی ہے۔
پانچوں ریاستوں میں انتخابات گذشتہ ہفتے مکمل ہوئے تھے۔
ان انتخابات میں شمال مشرقی ریاست آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو تقریباً 77 سیٹوں پر سبقت حاصل ہے اور اس طرح وہ پہلی بار اس ریاست میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے دکھ رہی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب کہ کسی بھی شمال مشرقی ریاست میں بی جے پی اقتدار سنھالے گي۔ اس سے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی دونوں ہی کی پوزیشن کافی بہتر ہوگئی۔

،تصویر کا ذریعہdivya
دوسری جانب آسام میں کانگریس پارٹی کی شکست پارٹی کی بڑی شکست ہے جہاں وہ گذشتہ 15 برس سے اقتدار میں تھی۔
ادھر جنوبی ریاست کیرالا میں کانگریس کی قیادت والا محاذ یو ڈی ایف بھی شکست سے دوچار ہونے قریب ہے۔ یہاں بھی کانگریس کی حکومت تھی جو رجحانات کے مطابق ہار رہی ہے۔
کیرالا میں بائیں بازو کے زیر قیادت ایل ڈی ایف محاذ نے رجحانات کے مطابق سبقت حاصل کر لی ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق اسے اسبملی میں اکثریت حاصل ہو جائے گي۔
پڑوسی ریاست تمل ناڈو میں علاقائی جماعت ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا۔ لیکن رجحانات کے مطابق اس میں بھی وزیر اعلیٰ جے للتا کی پارٹی اے آئی ڈی ایم کے کو سبقت حاصل ہے اور وہ دوباہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست مغربی بنگال میں وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کامیاب رہی ہے اور تازہ رجحانات کے مطابق 294 نشستوں والی اسمبلی میں اسے دو تہائی سے زائد سیٹوں پر سبقت حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بنگال میں ممتا بینرجی دوبارہ اقتدار میں واپس ہونے کی پوزیشن میں ہیں۔
پڈّوچیری میں بھی گنتی جارہی ہے اور وہاں کانگریس پارٹی اور آل انڈیا این آر کانگریس کے درمیان سخت مقابلے کی اطلاعات ہیں۔
چونکہ ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینیں استعمال کی گئی ہیں اس لیے ووٹوں کی گنتی جلد ہی مکمل ہونے کا امکان ہے۔
تجزيہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام تک صورت حال پوری طرح سے واضح ہو جائےگی۔ اس سے متعلق مختلف ٹی وی چینلوں نے جو ایگزٹ پول دکھائے تھے اس کے مطابق ریاست آسام، تمل ناڈو اور کیرالا میں حکومتیں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
انڈیا میں ان انتخابات کی سیاسی نوعیت سے بڑی اہمیت بتائي جا رہی ہے۔

ایک طرف جہاں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی مختلف علاقوں میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے کوشاں ہے، وہیں حکمران جماعت بی جے پی کا بھی سخت امتحان ہے۔
اسمبلی انتخابات کے نتائج سے اس بات کا بھی پتہ چل سکے گا کہ آیا وزیراعظم نریندر مودی کا اثر پہلے ہی جیسا ہے یا ان کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے۔
2014 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ بہت مقبول تھے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد ہونے والے کئي ریاستی انتخابات میں وہ کامیاب نہیں ہو پائے۔







