کیا انڈیا’کانگریس سے آزاد بھارت‘ کی طرف گامزن ہے؟

ریاست آسام میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آتے ہی بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی کہا کہ کانگریس سے آزاد بھارت کی مہم میں ملک دو قدم آگے بڑھ گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنریاست آسام میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آتے ہی بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی کہا کہ کانگریس سے آزاد بھارت کی مہم میں ملک دو قدم آگے بڑھ گیا ہے

انڈیا کی ہندو نواز جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ’کانگریس سے آزاد بھارت‘ کا نعرہ دیا ہے اور گذشتہ روز جمعرات کو اسبملی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے اس کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ شاید ملک اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

انڈیا پر کانگریس پارٹی کا برسوں سے راج رہا ہے لیکن اس وقت اس کی ملک کی محض چھ ریاستوں میں حکومت ہے اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں۔

اس کے برعکس بی جے پی کشمیر سے لیکر آسام تک اقتدار میں ہے اور مرکز میں حکمرانی کے ساتھ ہی ملک کی کئی اہم ریاستوں میں وہ اقتدار میں ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں کانگریس کا دائرہ اتنی تیزی سے سکڑ رہا ہے وہیں بی جے پی کا دائرہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور وہ قومی پارٹی بن گئی ہے۔

ریاست آسام میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آتے ہی بی جے پی کے صدر امت شاہ نے بھی کہا کہ ’کانگریس سے آزاد بھارت‘ کی مہم میں ملک دو قدم آگے بڑھ گیا ہے۔

لیکن ملک کے سینیئر صحافی اروند موہن اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ یہ انتخابی نتائج ’کانگریس سے آزاد بھارت‘ کی جانب بڑھنے کا عندیہ دیتے ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں کانگریس کا دائرہ اتنی تیزی سے سکڑ رہا ہے وہیں بی جے پی کا دائرہ تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور وہ وہ ایک نیشنل پارٹی بن گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAgencies

،تصویر کا کیپشنسیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں کانگریس کا دائرہ اتنی تیزی سے سکڑ رہا ہے وہیں بی جے پی کا دائرہ تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور وہ وہ ایک نیشنل پارٹی بن گئی ہے

ان کا کہنا کہ ’کانگریس کو کافی نقصان ہوا ہے، آسام میں بی جے پی اور بنگال میں ترنمول کی جیت اہم ہیں لیکن کانگریس نے جو ووٹ حاصل کیے ہیں اور جو نشستیں حاصل کی ہیں، ان سے کانگریس سے آزاد بھارت کی جانب بڑھنے کی بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔‘

بی بی سی سے ایک خاص بات چیت کے دوران اروند موہن نے کہا: ’کانگریس پارٹی 125 سے زیادہ اسمبلی سیٹوں پر جیتی ہے اور اس کو ووٹ بھی زیادہ ملے ہیں۔ بی جے پی کو جتنی سیٹیں ملیں ہیں، اور کانگریس کو مجموعی طور پر جتنی سیٹیں ملی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ملک کانگریس سے آزاد بھارت کی طرف بڑھ گیا ہے، کتنا واجب ہے۔۔۔۔‘

ان کا کہنا ہے تھا کہ ممتا، جے للتا کی جیت اور کیرالا میں بائیں جماعتوں کی جیت بھی اہم ہے۔ بی جے پی کسی شمال مشرقی ریاست میں پہلی بار حکومت بنانے جا رہی ہے۔

آسام میں بی جے پی کی جیت کے کیا معنی ہوں گے؟ اس پر اروند موہن کا کہنا ہے کہ جس طرح سے بی جے پی نے آسام کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور آسامیوں کی شناخت کا مسئلہ اٹھایا ہے، اس سے خود اس کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔

انڈیا پر کانگریس پارٹی کا برسوں سے راج رہا ہے لیکن اس وقت اس کی ملک کی محض چھ ریاستوں میں حکومت ہے اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا پر کانگریس پارٹی کا برسوں سے راج رہا ہے لیکن اس وقت اس کی ملک کی محض چھ ریاستوں میں حکومت ہے اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں

وہ کہتے ہیں:’اس طرح انتخابات جیتے تو جا سکتے ہیں لیکن 50 برس پرانے مسئلے کو حل کرنا اتنا آسان نہیں ہے، آگے کا راستہ آسان نہیں ہے۔ آسام میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں جانے والے رہنما ہیمنت بسوا شرما کو کو بھی سنبھالنا بی جے پی کے لیے مشکل ہو جائے گا۔‘

اروند موہن کے مطابق بی جے پی نے بہار اور دہلی میں شکست کے بعد اپنی حکمت عملی میں کافی تبدیلیاں کی ہے اور بی جے پی اور سنگھ پریوار نے آسام میں اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی۔

بعض دیگر سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس تیزي سے ہندو نواز جماعت بی جے پی کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور کانگریس کا سمٹتا جا رہا ہے اس سے لگتا ہےکہ بی جے پی جلد ہی کانگریس کی جگہ لے سکتی ہے۔