انڈیا: اعظم گڑھ میں فسادات کے بعد حالات کشیدہ

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے نظام آباد تھانے کے خدا داد پور، سنجر پور، پھريا، فرید آباد، داؤد پور جیسے دیہی علاقوں میں آج کل بڑی تعداد میں پولیس اور دیگر فورسز کا سخت پہرہ ہے۔
چند رز قبل اس علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھنے کے بعد سے انتظامیہ نے اپنی نگرانی سخت کر دی ہے اور وہاں ہر جانب پولیس کی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہاں سنیچر کی رات کو دو افراد کے درمیان ہونے والی معمولی جھڑپ نے کچھ ہی دیر بعد فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلیا۔ اس کے بعد سے ہی نظام آباد اور سرائے میر علاقے کے کئی گاؤں کے لوگ دہشت میں ہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے انھیں گھروں سے باہر نکلنے سے منع کر رکھا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس فرقہ وارانہ تشدد کی بنیاد دو ماہ قبل رکھی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہولی کے موقع پر کچھ لوگوں نے مسلمان برادری کے ایک شخص کو زبردستی رنگ لگا دیا تھا۔ لڑائی اس وقت بھی ہوئی تھی لیکن بات اتنی زیادہ بڑھنے نہیں پائی تھی۔
ایک دلت خاندان کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کی شام کو معمولی جھگڑے کے بعد بعض مسلمان نوجوانوں نے ان کے گھر کو آگ لگا دی اور اسی آتشزدگی کے بعد تشدد بھڑک اٹھا۔
دوسری جانب مسلمان بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ فرید آباد گاؤں کی یادو برادری کے لوگوں نے ان کےگھروں پر دھاوا بول دیا اور اور آگ لگائی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دونوں فرقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے اگر اس معاملے میں احتیاط سے کام لیا ہوتا تو شاید اس تشدد سے بچا جا سکتا تھا اور یہ اتنی دور تک نہیں پھیل پاتا۔
مقامی انتظامیہ اور حکام نے ابھی تک ان فرقہ وارانہ فسادات کی وجوہات بارے میں کچھ بھی نہیں کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تناؤ تو ہے لیکن صورت حال پوری طرح سے قابو میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دلت بستی کے رہائشیوں کا الزام ہے کہ ان کے گھر جب جلائے جا رہے تھے اس وقت پولیس اور انتظامیہ کے افسران وہاں موجود تھے لیکن وہ خود اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ ان کی مدد نہیں کر پائے۔
اس تشدد کے دوران پولیس کے ایک اہلکار کو گولی بھی لگی تھی اور بعض دیگر پولیس اہلکاروں کو چوٹیں بھی آئی ہیں۔ نظام آباد کے تحصیل دار کو تو اس قدر مارا پیٹا گیا کہ وہ ابھی تک ہسپتال میں بھرتی ہیں۔
اعظم گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ سہاس ایل وائي نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اب حالات معمول پر آرہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’لوگ چائے پکوڑے کھا رہے ہیں، سب کچھ ٹھیک ہے۔ معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہے، جو بھی مجرم ہوں گے، انھیں بخشا نہیں جائے گا۔‘
ضلع مجسٹریٹ نے گرچہ حالات کو معمول پر بتایا ہو لیکن لیکن سڑک کنارے کہیں بھی دکانیں تیرسے روز بھی نہیں کھلی تھی اور سڑکوں پر آنے جانے والوں میں کوئی مقامی شخص نظر نہیں آتا۔
علاقے میں پولیس انتظامیہ کی تعیناتی اور سختی کے سبب اس علاقے کے گاؤں والے کافی پریشان ہیں لیکن انتظامیہ کا کہنا کہ چونکہ حالات اب بھی کشیدہ ہیں اس لیے سکیورٹی کے تعق سے لاپرواہی نہیں برتی جا سکتی ہے۔







