انڈیا: کیرالہ میں دلت خاتون کے قتل پر مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہ
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کی ہلاکت کے بعد سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا ہے۔
دلت برادری کی لڑکی کی مسخ شدہ لاش اس کے گھر میں ملنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد یہ مظاہرہ کیا گیا ہے۔
پولیس نے ایرناکولم ضلعے میں ہونے والے اس قتل کے معاملے میں پانچ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آٹوپسی رپورٹ کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آيا لڑکی کا ریپ بھی کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا میں دلت ذات کو معاشرے میں نچلے طبقہ تصور کیا جاتا ہے اور دلتوں کو پہلے اچھوت کہا جاتا تھا۔
جمعرات کو کورپّمپیڈی گاؤں میں ایک 30 سالہ قانون کی طالبہ اپنے گھر میں مردہ پائی گئي تھی۔حادثے کے وقت ماں گھر پر موجود نہیں تھی۔
اطلاعات کے مطابق اس کے جسم پر کئي جگہ چاقو کے زخم تھے اور حملے کے دوران اس کی آتیں باہر نکل آئی تھیں۔
ضلع کے پولیس افسر یتیش چندر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’پڑوسیوں نے بتایا کہ انھوں نے شور سنا تھا اور 28 اپریل کو جس دن یہ واقعہ پیش آیا، ایک شخص کو گھر سے بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اس شخص کو جانتی تھی اور ہم اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
پولیس نے پہلے سات افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں لڑکی کے دو دوست ایک ساتھی اور ایک لڑکی کو رقص سکھانے والا استاد شامل ہے۔ ان میں سے دو کو بعد میں رہا کردیا گیا۔
کیرالہ کے وزیر اعلٰی اومن چینڈی نے اس واقعے کو ’افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا کہ ’مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا: ’ایسا بہیمانہ حملہ ہماری ریاست میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وحشیانہ ہے۔‘
اس واقعے پر کئی دنوں سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مظاہرین نے جلد تحقیقات کرنے ا مطالبہ کیا ہے۔
وہ منگل کو اس ہسپتال کے قریب جمع ہوئے جہاں مقتول کی لاش کو لے جایا گیا تھا۔ انھوں نے ہاتھوں میں پوسٹرز اٹھا رکھے تھے اور انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بدھ کو مقتول کے گاؤں کے پاس والے شہر میں مظاہرے کیے گئے۔ ریپ کے ایک دوسرے واقعے میں پولیس نے ایک آٹو رکشہ والے کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی ایک 19 سالہ دوست کا ریپ کیا ہے۔ یہ لڑکی بھی دلت بتائی جاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے کے واقعے نے دہلی کے واقعے کی یاد تازہ کرا دی ہے جب سنہ 2012 میں ایک چلتی ہوئی بس میں ایک لڑکی کا اجتماعی ریپ کیا گيا تھا اور پھر وہ زخموں کی تاب نہ لاسکی تھی۔







