’احتجاج کے دوران ریپ‘، ہریانہ پولیس کو معلومات کی تلاش

ہریانہ میں 19 فروری کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے اگلے چند دنوں میں پرتشدد صورت اختیار کر لی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہریانہ میں 19 فروری کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے اگلے چند دنوں میں پرتشدد صورت اختیار کر لی تھی

بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس چیف نے درخواست کی ہے کہ ریاست میں حالیہ احتجاج کے دوران کم از کم دس خواتین کے ساتھ ریپ کے حوالے سے اگر کوئی اطلاع ہے تو اس بارے میں مطلع کیا جائے۔

ڈائریکٹرجنرل پولیس وائی پی سنگھل کا کہنا تھا کہ اگر انھیں کوئی بھی معلومات ملیں تو پولیس کارروائی کرے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے جبکہ گاڑیوں، دکانوں اور املاک کو نذر آتش کیا گیا تھا۔

مظاہرین کا تعلق جاٹ برادری سے تھا جو بھارت میں ذات کی بنیاد پر کوٹے کے نظام کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں کوٹہ مختص کیا جائے۔

جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائی پی سنگھل نے کہا کہ ’ہم کسی بھی ریپ کی تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن اگر ہمیں کوئی شکایت موصول ہو تو ہم کارروائی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تفتیش کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن ہمیں معلومات درکار ہیں۔‘

ایک بھارتی اخبار میں بدھ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق مظاہرین نے دہلی اور ہریانہ کو ملانے والی شاہراہ پر احتجاج کے دوران درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔ اس خبر کے مطابق مظاہرین نے دس خواتین کے کپڑے اتارے اور قریبی کھیتوں میں ان کے ساتھ ریپ کیا گیا۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ریاست کی حکومت سے الزامات کی تفتیش کا حکم دیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ریاست کی حکومت سے الزامات کی تفتیش کا حکم دیا ہے

بھارتی نیوز چینلز نے شاہراہ کے قریب پھینکے گئے کپڑے دکھائے اور ذرائع ابلاغ نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا کہ یہاں بڑے پیمانے پر زیادتیوں کی اطلاعات ہیں۔

میڈیا رپورٹس نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب زیادتی کا شکار ہونے والوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ’اپنی عزت کے بچاؤ‘ کے لیے شکایت درج نہ کروائیں۔ تاہم سینیئر پولیس اور انتظامی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

بدھ کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ریاست کی حکومت سے الزامات کی تفتیش کا حکم دیا تھا۔

جمعرات کو ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ متاثرین اگر پولیس تھانے نہیں جانا چاہتے تو وہ براہ راست چیف جیوڈیشل مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہریانہ میں 19 فروری کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے اگلے چند دنوں میں پرتشدد صورت اختیار کر لی تھی اور جاٹوں کی جانب سے دیگر ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گاڑیاں، دکانیں اور املاک کو نذرآتش کیا گیا تھا۔