ہریانہ میں احتجاج سے دہلی میں پانی کا بحران

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارتی دارالحکومت دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے دہلی کو پانی فراہم کرنے والی نہر کی بندش کی وجہ سے دارالحکومت میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ریزرویشن کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے جاٹ برادری کے مظاہرین نے سنیچر کو مونک نامی نہر بند کر دی تھی جس کی وجہ سے دہلی میں پانی کی فراہمی کا عمل رک گیا تھا اور ایک بحرانی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔
دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے پیر کو نہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے تاہم دہلی واٹر بورڈ کے سربراہ کیشو چندرا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کے متاثرہ علاقوں تک پانی کی مکمل فراہمی کی بحالی میں ’تین سے چار دن‘ لگ سکتے ہیں۔
دہلی کی آباد ایک کروڑ 60 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور دہلی کو فراہم کیا جانے والا تقریباً 60 فیصد پانی مونک نہر سے ہی آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دہلی واٹر بورڈ کے سربراہ کے مطابق چونکہ دہلی کے شہریوں کو پانی کی کمی کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی اس لیے لوگوں نے پانی ذخیرہ کیا ہوا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں پانی کے سینکڑوں ٹینکرز بھیجے گئے ہیں۔
تاہم کیشو چندرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان اقدامات کے باوجود شہر میں پانی کی کمی برقرار رہے گی۔
پانی کے بحران کی وجہ سے دہلی کے تمام سکولوں میں پیر کو تعطیل کر دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہKAPIL MISHRA Twitter
دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے پیر کو ٹویٹ کیا: ’آج سے خشک دنوں کی ابتدا ہے، آج صبح میرے گھر پانی نہیں آیا۔ مونك نہر سے پانی ملنے کی کوئی امید نہیں۔ دہلی کے لیے آنے والے دن مشکل ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے پیر کو بتایا کہ ’فوج نے نہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ پانی کو وہاں سے آنے میں کتنے دن لگیں گے اور کیا نہر کو نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔‘
نہر کی مرمت کے بارے میں ہریانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ پی کے داس نے کہا ہے کہ ’ نہر کی مرمت کا کام پیر کی صبح سے جاری ہے اور ہمارے انجینئرنگ یونٹ نے پیر کی شب تک کام مکمل ہونے کا یقین دلایا ہے۔‘







