ہریانہ میں حالات بہتر، سونی پت میں دو ہلاکتیں

ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن تحریک کے دوران پیر کو دارالحکومت نئی دہلی سے ملحقہ ضلعے سونی پت میں تشدد کے واقعات میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ادھر ہریانہ میں حکومت کی جانب سے ملازمتوں میں کوٹہ دینے کے وعدے کے بعد جاٹ برادری نے سڑکوں کی ناکہ بندی کو جزوی طور پر ختم کر دیا ہے۔
جاٹوں کی تحریک کے دوران تین دن میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً تین سو افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ضلع سونی پت کی پولیس کے سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک گرگ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں اور فوج کے جوانوں کے درمیان جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب سکیورٹی اہلکار لاڈسولي گاؤں کے قریب انبال اور دہلی کو ملانے والی قومی شاہراہ کھلوانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پیر کو ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم دو لوگ مارے گئے ہیں۔‘
ادھر ہریانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ پی کے داس کا کہنا ہے کہ ریاست میں صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔
ہریانہ میں ریزرویشن تحریک چلانے والے جاٹوں نےساری ریاست کی ناکہ بندی کر رکھی تھی اور ریاست کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کو بند کر دیا گیا تھا۔
پیر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی کے داس نے بتایا ’ساپلا اور حصار میں مظاہرین نے جو سڑکیں جام کر رکھی تھیں وہ اب کھول دی گئی ہیں تاہم مظاہرین ریلوے لائنوں پر اب بھی موجود ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے توقع ظاہر کی کہ ’بھوانی اور جیند کی سڑکوں سے بھی مظاہرین جلد ہی ہٹ جائیں گے تاہم نیشنل ہائی وے اب بھی بند ہے۔‘
پی کے داس نے بتایا، ’پرتشدد واقعات میں مارے جانے والے افراد کے اعداد و شمار سرکاری ہسپتالوں سے جمع کیے گئے ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ زخمیوں نے نجی ہسپتالوں میں بھی علاج کروایا ہو۔‘
پی کے داس کا کہنا ہے کہ ’ہمارے سامنے دو سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔ سب سے پہلے قانون کے نظام کو پوری طرح بحال کرنا اور دوسرا یہ یقینی بنانا کہ جاٹوں اور غیر جاٹوں کے درمیان کشیدگی شروع نہ ہو۔‘
اس تحریک کے دوران سب سے زیادہ متاثرہ ضلعے روہتک کے ایس ڈی ایم دلبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’شہر کے ایک حصے میں جاٹ مظاہرین اب بھی موجود ہیں لیکن ان کی تعداد پہلے سے کم ہے اور وہ پرامن ہیں۔‘
اتوار کو ہریانہ کی حکومت نے جاٹ کو ملازمتوں اور تعلیم میں کوٹہ دینے سے متعلق بل کو ریاستی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ مرکزی حکومت کے مطابق جاٹ برادری کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔
جاٹ برادری کو اعلیٰ ذات کی حیثیت حاصل ہے تاہم وہ دیگر نچلی ذاتوں کے لیے متعین کردہ حیثیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن دیگر نسلی گروہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔







