بھارت: انسدادِ فسادات قانون پر اعتراضات

بھارتی پارلیمان کے رواں اجلاس میں حکومت مذہبی فسادات کی روک تھام کے لیے ایک نیا اور سخت قانون منظور کرانے کی تیاری میں ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اس کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔
وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ مجوزہ قانون معاشرے میں تفریق پیدا کرے گا اور اس کا بنیادی مقصد ووٹ حاصل کرنے کے لیے اقلیتوں کو خوش کرنا ہے۔
لیکن وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ’جتنے بھی اہم قانون وضع کیے جانے ہیں ان پر اتفاق رائے پیدا کرنےکی کوشش کی جائےگی۔‘
مذہبی فسادات کی روک تھام کے لیے فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام کے لیے قانون لانے کا وعدہ یو پی اے کی حکومت نےاپنے پہلے دورِ اقتدار میں کیا تھا اور اسے پہلی مرتبہ 2005 میں پارلیمان میں پیش کیا گیا تھا۔
2011 میں سونیا گاندھی کی قیادت والی قومی مشاورتی کونسل نے بل میں کئی ترامیم کی تھیں جس کے بعد اسے گذشتہ برس وزارت داخلہ کو بھیچ دیا گیا تھا۔ لیکن ابھی اسے کابینہ کی منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے۔

اترپردیش میں مظفرنگر کے حالیہ مذہبی فسادات کے بعد اس بل کا ذکر دوبارہ شروع ہوا ہے لیکن اپوزیشن کی جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت کی نگاہ آئندہ برس کے پارلیمانی انتخابات پر ہے کیونکہ اب تک اس نے بل منظور کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔
مجوزہ قانون میں مذہبی فسادات کی روک تھام کے لیے انتہائی سخت تدابیر شامل کی گئی ہیں جن میں ’اقلیتی گروپوں‘ کے خلاف تشدد کی صورت میں مقامی انتظامیہ کو کوتاہی کا ذمہ دار ٹھہرانے کی تجویز شامل ہے۔
لیکن بی جے پی کا اعتراض ہے کہ اس بل کا جھکاؤ اقلیتوں کی طرف ہے اور بل کی شقوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مذہبی فسادات صرف اکثریت کی طرف سے ہوتے ہیں اور ان میں صرف اقلیتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بل میں اقلیتی گروپوں کی نشاندہی مذہبی اور لسانی بنیادوں پر کی گئی ہے اور بی جے پی کا موقف ہے کہ اس میں یہ بات واضح طور پر شامل نہیں ہے کہ اگر کسی علاقے میں اقلیتوں کے ہاتھوں اکثریتی فرقے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تب بھی کیا اس قانون کے تحت کارروائی کی جاسکے گی؟
مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس جیسی علاقائی پارٹیوں کا موقف ہے کہ یہ قانون ملک کے وفاقی کردار سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اس سے ریاستوں کے اختیارات متاثر ہوں گے کیونکہ دستور ہند کے مطابق امن و قانون کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کو حاصل ہے۔
قومی مشاورتی کونسل کا کہنا ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب کسی ریاست میں مذہبی یا لسانی یا درج فہرست ذات و قبائل سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو ریاستی مشینری کی طرف سےانھیں تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک وفاقی اتھارٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی گئی ہے جس کے احکامات پر عمل کرنا ریاستوں کے لیے لازمی ہوگا۔
کونسل کے رکن اور شہری حقوق کے کارکن ہرش میندھر کے مطابق یہ قانون کسی خاص مذہب کے خلاف یا حق میں نہیں ہے، اور اس کا مقصد مذہبی فسادات کو روکنا ہے۔
بی بی سی کے نمائندے سہیل حلیم کا کہنا ہے کہ پارلیمان کا موجودہ اجلاس صرف نو دن جاری رہے گا اور اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ اتنے کم عرصے میں بل کو منظور کرانے کے لیے سیاسی رائے ہموار کی جاسکے گی۔







