دہلی میں پھر ٹریفک کا ازدحام

- مصنف, وکاس پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں حکام کی جانب سے ایک آزمائشی مہم کے اختتام پر پیر کو شہر کی سڑکوں پر دوبارہ طویل ٹریفک جام دکھائی دیے۔
اس مہم کے تحت نجی گاڑیوں کو طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹوں کے حساب سے ایک دن چھوڑ کر سڑک پر آنے کی اجازت تھی۔
یہ تجربہ حکومت کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے یکم جنوری کو شروع کیا گیا تھا۔
وہ ڈرائیور جو گذشتہ دو ہفتوں سے گاڑیوں پر اپنا سفر معمول کے وقت سے آدھے وقت میں پورا کر رہے تھے، آج پیر کو مایوس دکھائی دے رہے تھے۔
ان کے چہروں کے تاثرات سے محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ انھیں ’طاق اور جفت‘ کا عارضی منصوبہ یاد آ رہا ہے۔
مجھے بھی ان کے جذبات کا احساس تھا۔ تجرباتی عرصے کے دوران میں اپنے دفتر صرف 45 منٹ میں پہنچ جایا کرتا تھا لیکن اب میں بھی 90 منٹ کے سفر پر واپس آگیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
ٹریفک جام اپنے ساتھ مزید مسائل بھی لے کر آئے ہیں۔ ان دو ہفتوں کے بعد ٹریفک سگنلوں پر گاڑیوں کی طویل قطاروں کے ساتھ ساتھ ان کے ہارنوں نے بھی ناک میں دم کر رکھا ہے۔
ڈرائیوروں نے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا ہے، جیسے شہر کی سڑکیں ہی چھوٹی پڑ گئی ہوں۔
فضائی آلودگی کی سطح پر اس تجربے کے اثرات تو ابھی واضح نہیں ہوئے لیکن دہلی کی سڑکوں پر ٹریفک جام کی کمی ضرور حیرت انگیز بات ہے۔
اس تجربے کے بعد کئی لوگوں نے دفتر جانے کے لیے کار پولنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے دیگر راستے اپنائے تھے۔
میں ان میں سے ایک تھا۔ جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹ چلانے کے دنوں کے دوران میں اپنے دفتر روہت رمن، ان کی اہلیہ سواتی سارن اور وجیندرا سنگھ کے ساتھ جاتا تھا۔ طاق نمبروں والی لائسنس پلیٹ چلانے کے دنوں میں ہم روہت کی گاڑی استعمال کرتے تھے۔

ہمارے دفتر دہلی کے ایک ہی علاقے میں واقع ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے فلیٹ بھی ایک ہی عمارت میں ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اس تجربے کے اعلان تک اپنی گاڑیوں کی شراکت داری کرنے کا سوچا تک نہیں تھا۔
اپنے دفتروں کی جانب سفر کرتے ہوئے ہم زیادہ تر فضائی آلودگی پر اس تجربے کے اثرات کے بارے میں بات چیت کرتے تھے۔
ہم اس بات پر متفق تھے کہ دو ہفتے کے اس تجربے سے فضائی آلودگی پر زیادہ اثر تو نہیں پڑے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ٹریفک میں خاصی کمی بھی دیکھی جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکے۔
روہت نے مجھے بتایا: ’طاق اور جفت نمبروں کے دنوں میں مجھے گھر میں زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ گاڑی کا سفر پریشان کن نہیں تھا اور مجھے دوسرے لوگوں کے ساتھ سفر کرنے، کھانا بانٹنے اور باتیں کرنے کا ہمیشہ زیادہ مزہ آتا ہے۔‘
ان کی اہلیہ سواتی کا بھی کہنا تھا کہ ’ٹریفک میں چھوٹی سے چھوٹی کمی سے فرق ضرور پڑتا ہے۔‘
لیکن اس قسم کے منصوبے کو کس طرح مستقل بنایا جا سکتا ہے؟

روہت کا کہنا ہے کہ ’تجربے کے طور پر یہ اچھا منصوبہ ہے لیکن اسے مستقل نہیں بنایا جا سکتا‘ کیونکہ ’دہلی حکومت نے اس حکم میں کچھ زیادہ ہی رعائتیں دے رکھی تھیں۔ اس منصوبے کو زیادہ موثر بنانے کے لیے یہ بات تبدیل کرنی ہوگی۔‘
خواتین اس عارضی پابندی سے مستثنیٰ تھیں۔ اس کے علاوہ معذور لوگوں کی گاڑیوں کو بھی تمام دن چلنے کی اجازت تھی۔
وجیندرا سنگھ کا کہنا ہے کہ ’یہ منصوبہ دو ہفتوں کے لیے تو کام کا تھا لیکن اب بھی کئی مسائل ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’کئی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ رکشہ گاڑیوں اور ٹیکسیوں نے کرایے بڑھا دیے تھے۔ ان سب چیزوں پر قابو پانا ضروری ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’مجھے شک ہے کہ اس منصوبے سے فضائی آلودگی پر کوئی زیادہ اثر پڑا ہو گا، لیکن اس سے ٹریفک میں کمی ضرور آئی تھی۔ لہٰذا اسے ٹریفک کم کرنے کا منصوبہ کہلانا چاہیے، فضائی آلودگی کا نہیں۔‘
ہم لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی کار پولنگ جاری رکھیں گے۔ اگر آپ ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جہاں سڑکوں پر روزانہ 1400 گاڑیاں مزید آتی ہیں، تو وہاں پر ایسا کرنا کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے۔







