’ایک دن جفت اور ایک طاق کا‘ آزمائشی مہم مکمل

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں حکام کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شہر میں نجی گاڑیوں پر پابندی کی دو ہفتوں کے لیے شروع کی جانے والی آزمائشی مہم ختم ہوگئی ہے۔
یکم جنوری سے شروع ہونے والی اس مہم کے تحت طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹ کے حساب سے ایک دن چھوڑ کر سڑک پر آنے کی اجازت دی گئی تھی۔
<link type="page"><caption> دہلی کی آلودگی کا حل ’کار فری ڈے‘؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151022_india_car_free_day_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> دلی میں سانس لینا دوبھر، لوگ شہر چھوڑنے کی فکر میں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/06/150605_delhi_pollution_as.shtml" platform="highweb"/></link>
اس آزمائشی مہم کے دوران شہر میں تقریبا ایک چوتھائی گاڑیوں کو سڑک پر آنے سے روکا دیا گیا جس سے ٹریفک کی روانی سہل انداز میں ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق شہر میں 30 لاکھ گاڑیاں ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس مہم کے دوران آلودگی کم کرنے میں مدد ملی ہے یا نہیں۔
یہ مہم یکم جنوری سے آزمائشی بنیادوں پر شروع کی گئی تھی تاہم ہنگامی استعمال کی گاڑیاں مثلاً ایمبولینس، پولیس کی گاڑیاں، آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ٹیکسیاں اس پابندی سے مستثنٰی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رواں سال موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔
شہر میں آلودگی کی سطح بین الاقوامی ادارہ صحت کی طے شدہ حد سے دس گنا زیادہ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آلودگی سے نمٹنے کے لیے دیے جانے والے حکم کے بعد مقامی حکام کی جانب سے حالیہ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نامہ نگاروں کے مطابق بیشتر ڈرائیوروں نے پابندی پر عمل درآمد کیا اور اس آزمائشی مہم کو سراہا۔
ایک مارکیٹنگ اگزیکٹیو اکشتھ متھارو نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’سفر اتنا مشکل نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہے تھے۔‘ وہ میٹرو ٹرین پر سفر کرتے ہیں۔
’سڑکیں دیکھیں ان پر بہت کم رش ہے۔ کس نے خیال کیا تھا کہ دہلی کی ٹریفک یوں روانی سے چلے گی؟‘
اس آزمائشی مہم کے دوران موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ ان گاڑیوں کو بھی تمام ایّام میں سڑکوں پر آنے کی اجازت تھی جو بطور ایندھن قدرتی گیس (سی این جی) کا استعمال کر تی ہیں جبکہ ہنگامی طبی امداد کے لیے مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت تھی۔
اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑنے والے ممکنہ اضافی دباؤ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے رہائشی علاقوں سے شٹل سروس شروع کرنے کے لیے تین ہزار نجی بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔







