دہلی کی آلودگی کا حل ’کار فری ڈے‘؟

عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ دہلی کی فضا دنیا کے سب سے آبادی والے شہر بیجنگ سے بھی دگنی آلودہ ہے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ دہلی کی فضا دنیا کے سب سے آبادی والے شہر بیجنگ سے بھی دگنی آلودہ ہے

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں سڑک کا کچھ حصہ چند گھنٹوں کے لیے بند کیا گیا تاکہ جمعرات کو ’کار فری ڈے‘ منایا جا سکے۔

لال قلعے سے لے کر انڈیا گیٹ تک چھ کلومیٹر تک کی سڑک بند کر دی گئی اور وہاں صرف سات سے لے کر 12 بجے تک پبلک ٹرانسپورٹ کو گزرنے کی اجازت تھی۔

دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے سائیکل سواروں کے ایک گروہ کی قیادت کرتے ہوئے نقل و حمل کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا۔

دہلی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مہینے میں ایک بار’کار فری ڈے‘ منایا جائے گا۔

مئی سنہ 2014 میں عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ دہلی کی فضا دنیا کے سب سے آبادی والے شہر بیجنگ سے بھی دگنی آلودہ ہے۔

تقریباً 84 لاکھ گاڑیاں ہر روز دہلی کی سڑکوں سے گزرتی ہیں۔

دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجری وال کا کہنا تھا: ’آلودگی کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر بھیڑ کو کم کرنے کی غرض سے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ لوگوں کو ذاتی گاڑیاں چھوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ اور سائیکلوں کا استعمال کرنا چاہیے۔‘

دہلی کے وزیرِ اعلی اروند کیجری والے نے سائیکل سواروں کے ایک گروہ کی قیادت کرتے ہوئے نقل و حمل کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندہلی کے وزیرِ اعلی اروند کیجری والے نے سائیکل سواروں کے ایک گروہ کی قیادت کرتے ہوئے نقل و حمل کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا

لیکن سوال یہ ہے کہ محض ایک سڑک بند کر دینے سے یہ اقدام کتنا کارگر ہوا اور وہ بھی ایسے دن جب ہندو تہوار دوشہرے کے باعث سکول، کالج ، کاروبار اور دفاتر پہلے سے ہی بند تھے؟

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے اثرات اس وقت زیادہ سامنے آئیں گے جو چھٹیوں کے بعد سڑکوں پر گاڑیاں معمول کے مطابق چلیں گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس دن کو منانے کے لیے 22 اکتوبر کا دن بہت پہلے چنا گیا تھا اور اس وقت یہ بھی واضح نہیں تھا کہ اس روز دسہرہ ہو گا۔

دہلی پولیس نے بھی اس دن کے انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر حقیقی قرار دیا۔

لیکن کئی لوگوں نے اس کی تعریف بھی کی۔

سنیل کمار ایک ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکن ہیں اور وہ اس سائیکل ریلی میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں ’گو کہ یہ چند گھنٹوں کے لیے ہے لیکن یہ ایک اچھا آغاز ہے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا موقع ملے گا کہ آلودہ ہوا ہماری صحت کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ ‘

اندازاً 84 لاکھ گاڑیاں ہر روز دہلی کی سڑکوں سے گزرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناندازاً 84 لاکھ گاڑیاں ہر روز دہلی کی سڑکوں سے گزرتی ہیں