نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر تابکار مادے کا اخراج

،تصویر کا ذریعہOther
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر تابکار مادے کے اخراج کے بعد اطلاعات کے مطابق دو افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جمعے کو تابکار مادہ خارج ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’لیکج پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خارج ہونے والا تابکار مادہ جوہری دوائیوں کے ایک کھیپ کا حصہ تھا جو ٹرکش ایئرلائنز کی پرواز سے دہلی پہنچی تھی اور اس کی منزل شہر کا ایک نجی ہسپتال تھی۔
اے ایف پی نے بھارت کی نیشنل ڈیزاسٹر فورس کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کھیپ میں شامل چار کارٹنز میں سے ایک ٹوٹا ہوا پایا گیا۔
فورس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’حالات اب قابو میں ہیں اور ہماری ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ کارٹنز کو الگ کر دیا گیا ہے اور جوہری ماہرین موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے کے کارگو سیکشن میں کام کرنے والے دو کارکنوں کو احتیاطی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
بھارت میں جوہری توانائی کے منتظم ادارے اے ای آر بی کے نائب چیئرمین آر بھٹاچاریہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ٹوٹے ہوئے کنٹینر کو الگ کر کے علاقے کو عام آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ یہ تابکاری کے اخراج کا ایک محدود واقعہ تھا اور جس تابکار مادے کا اخراج ہوا وہ سوڈیم آیوڈائیڈ 131 تھا جو گلے کے غدود کے کینسر کے علاج میں استعمال ہوتا ہے۔







