دنیا کا پہلا یوگا ڈے، دہلی میں ہزاروں کا اجتماع

،تصویر کا ذریعہNarendra Modi
بھارتی دارالحکومت دہلی میں اتوار کو ہزاروں افراد پہلے بین الاقوامی يوگاڈے پر اکٹھے ہوئے ہیں اور اس موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ہزاروں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گيا ہے۔
دہلی کے صدر مقام انڈیا گیٹ اور راج پتھ پر ہزاروں رنگ برنگی چٹائیاں بچھائی گئی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میں شرکت کرنے والوں سے خطاب کیا اور انھوں نے یوگا کے بعض ارکان میں شرکت کی جبکہ اس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہ
خیال رہے کہ نریندر مودی قدیم بھارتی ورزش کے طریقے کے بارے میں بہت پرجوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ اس پر عمل کرتے ہیں اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 21 جون کو عالمی یوم ِیوگا قرار دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس 35 منٹ کے یوگا سیشن میں تقریبا 35 ہزار بیوروکریٹس، فوجی اور طلبہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کا مقصد کسی ایک مقام پر یوگا کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد کا گینیز ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرنا ہے۔
خیال رہے کہ اسی قسم کے یوگا کا اجتماع بھارت کے سینکڑوں شہروں اور قصبوں میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یوگا سیاچین گلیشیئر اور سمندر میں بھی کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ اسے دنیا بھر میں منایا جائے گا اور اس میں ’کروڑوں افراد‘ شرکت کریں گے۔
سوراج بذات خود نیویارک میں ہوں گی اور وہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے ساتھ اسی قسم کے اجتماع میں شرکت کریں گی۔
نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر تقریبا 30 ہزار افراد کے یوگا میں شرکت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
ہرچند کہ اس تقریب کو ’امن و ہم آہنگی‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن یہ اس وقت تنازع کا شکار ہو گیا جب بعض مسلم تنظیموں نے کہا کہ یوگا کا تعلق بطور خاص ہندو مذہب سے ہے اور یہ اسلام کے منافی ہے۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کا اس قدیمی ہندوستانی فن کو فروغ دینے کا ایجنڈا ہے۔ بہرحال حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یوگا میں شامل ہونا سب کے لیے لازمی نہیں ہے اور یہ بات کہ مسلمان یوگا کے خلاف ہیں مبالغہ آرائي ہے۔

،تصویر کا ذریعہ







