’یوگا کو کسی مذہب کا رنگ دینا درست نہیں‘

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گرمیوں کی صبح پانچ بجے راولپنڈی کے ایوب پارک کی بارہ دری کی جانب ایک ایک کر کے بزرگ، نوجوان اور خواتین خراماں خراماں چلے آتے ہیں۔

لباس سے تو ایسا محسوس ہوتا کہ ہے جیسے یہ سب صبح کی سیر کے لیے نکلے ہیں لیکن ایک بات انھیں سیر کرنے والوں سے مختلف بناتی ہے اور وہ ہے ان کی بغل میں دبے رنگین میٹس۔

یہ فرشی میٹس یوگا کے لیے ہیں اور پاکستان میں گذشتہ دس برسوں سے یوگا سکھانے والے استاد شمشاد حیدر ان افراد کا مرکزِ نگاہ ہیں۔

وہ ایک ایک کر کے ان کے گرد جمع ہوتے ہیں، اپنے اپنے میٹس ترتیب سے چمن میں لگاتے ہیں اور پھر ان پر بیٹھ کر شمشاد کی ہدایات کا انتظار کرتے ہیں۔

جسمانی و روحانی تازہ غذا کی تلاش میں آنے والوں میں تقریباً دو درجن بزرگ اور جوان شامل ہیں جبکہ عورتوں کے لیے تھوڑی دور بارہ دری کی دوسری جانب شمشاد حیدر کی اہلیہ الگ سیشن کا اہتمام کرتی ہیں۔

یوگا کو تن، من اور روح کی ورزش مانا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہYogi Haider

،تصویر کا کیپشنیوگا کو تن، من اور روح کی ورزش مانا جاتا ہے

شمشاد حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس یوگا کے لیے آنے والوں کی اکثریت 40 سال کی عمر کے لوگوں کی ہے۔ اس کی وجہ شاید اس عمر کے لوگوں کے جسمانی اور روحانی مسائل میں اضافے ہو سکتے ہیں جسے مڈ لائف کرائسس‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ برس دسمبر میں بھارت کی کوششوں کی وجہ سے 21 جون کو یوگا کا عالمی دن قرار دیا ہے اور پہلی مرتبہ یہ دن اس سال منایا جا رہا ہے۔

تاہم شمشاد کا کہنا ہے کہ ’اگر کسرت (ورزش) کے اس طریقۂ کار کو ہندو یا کوئی اور رنگ دیا جا رہا ہے تو غلط ہے۔ یہ خالصتا ایک سائنس اور آرٹ ہے۔ تعلیمات تو تمام مذاہب کی زبردست ہیں لیکن وہ تعلیمات ہم میں اترتی نہیں ہیں۔ یہ ورزش اسی کمی کو پورا کرتی ہے۔ انسان کو اپنے اندر اترنا سکھاتی ہے۔‘

یوگا میں حصہ لینے والوں میں عمر اور جنس کی قید نہیں

،تصویر کا ذریعہYogi Haider

،تصویر کا کیپشنیوگا میں حصہ لینے والوں میں عمر اور جنس کی قید نہیں

خون کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کھیلی جانے والی ہولی، مسلسل سیاسی و معاشی بحرانوں اور ابہام کی کیفیت سے گزرنے والے پاکستانی معاشرے کے لیے یہ ورزش کتنی سود مند ہے؟

شمشاد کہتے ہیں کہ ’انسان نے گذشتہ کئی دہائیوں میں ہزاروں جنگیں لڑی ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے رویے تبدیل نہیں ہوئے۔ ہم خود سے بات نہیں کرتے ہیں۔‘

شمشاد حیدر کے شاگردوں میں عمر و جنس کی کوئی قید نہیں۔

85 سالہ محمد اقبال قادر گذشتہ دو برس سے ان کے مطمئن شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوگا سے وہ ’اب نماز کے لیے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب چل پھر سکتے ہیں اور ڈرائیونگ بھی کرتے ہیں۔ میری کنسنٹریشن (ارتکاز) بھی بہتر ہوئی ہے۔‘

شمشاد کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کے اس طریقہ کار کو ہندو یا کوئی اور رنگ دیا جا رہا ہے تو غلط ہے۔ یہ خالصتا ایک سائنس اور آرٹ ہے

،تصویر کا ذریعہz

،تصویر کا کیپشنشمشاد کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کے اس طریقہ کار کو ہندو یا کوئی اور رنگ دیا جا رہا ہے تو غلط ہے۔ یہ خالصتا ایک سائنس اور آرٹ ہے

شمشاد حیدر کے بقول اس پانچ ہزار سال پرانی روحانی اور جسمانی ورزش سے پاکستان میں انھوں نے بہت بہتر نتائج حاصل کیے ہیں۔

یوگا سکھانے کے دوران ہی ان کی اپنی بیوی سے ملاقات ہوئی جنہیں دمے کی شکایت تھی۔

اس قسم کے ذاتی نتائج کے علاوہ ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے دمے کے تین ہزار دیگر مریضوں کا علاج بھی کیا ہے اور خواتین سمیت دو سو افراد کو خودکشی کرنے سے باز رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یوگا کو تن، من اور روح کی ورزش مانا جاتا ہے۔ صحت کے یہی فوائد ہیں جنھیں شمشاد یوگا کے پاکستان میں فروغ کے لیے بطور ’ہتھیار‘ استعمال کرتے ہیں۔

تاہم بھارت کے اس عالمی دن سے جڑے ہونے کی وجہ سے لگتا نہیں کہ پاکستان میں یوگا کے عالمی دن کو سرکاری سطح پر کوئی خاص اہمیت دی جائے گی۔