کیا نئی ’ایپ‘ سے دہلی کی صفائی ہو پائے گی؟

دہلی کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ہیں جن سے نکلنے والی متعفن بو صحت کے لیے خطرناک ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندہلی کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ہیں جن سے نکلنے والی متعفن بو صحت کے لیے خطرناک ہے

بھارتی دارالحکومت دہلی کی حکومت نے شہر میں جا بجا پھیلے کوڑے کے ڈھیروں کی صفائی کے لیے ایک ’ایپ‘ متعارف کروائی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس ایپ کی مدد سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

اس ایپ کا نام ’سواچھ دہلی‘ ( صاف دہلی) ہے اور یہ اینڈروئڈ ڈیوائسسز (آلات) پر دستیاب ہے۔ اس ایپ کے ذریعے صارفین اپنے علاقوں میں موجود کوڑے کے ڈھیر کی تصاویر اپ لوڈ کر سکیں گے۔

ایک اندازے کے مطابق دہلی میں یومیہ ڈیڑھ ہزار ٹن کے قریب فضلہ جمع ہوتا ہے۔

اتنے زیادہ فضلے سے نمٹنا بذات خود ایک مشکل کام ہے اور پھر دہلی کا منفرد اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچہ اسے اور بھی مشکل بنا دیتا ہے۔ خیال رہے کہ دہلی کے مختلف محمکے مختلف اداروں کے زیر انتظام ہیں۔

کچھ شعبے دہلی کی حکومت (وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی) کے ماتحت ہیں، جبکہ دیگر امور وفاقی حکومت (وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی) کے زیرانتظام ہیں۔دوسری جانب شہر کی بلدیہ کا نظم و نسق بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی یونٹ کے پاس ہے اوریہی حقیقت اس تمام صورت حال میں مزید پیچدگی پیدا کرتی ہے۔

صارفین کوڑے کے ڈھیر اور فضلے کی تصاویر کھینچ کے اس ایپ پر اپ لوڈ کردیں گے اور ایپ اس تصویر کو خود ہی اس کے محلِ وقوع کے ساتھ ڈیٹا بیس میں محفوظ کردے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنصارفین کوڑے کے ڈھیر اور فضلے کی تصاویر کھینچ کے اس ایپ پر اپ لوڈ کردیں گے اور ایپ اس تصویر کو خود ہی اس کے محلِ وقوع کے ساتھ ڈیٹا بیس میں محفوظ کردے گی

یہ مختلف ادارے پریشان اور برہم دہلی کے مکینوں سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کا محلّہ ان کے ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ کسی قسم کی ذمہ داری لینے سے بچتا ہے اور دوسرے کے سر تھونپتا ہے۔

اس نئی ایپ پروگرام کے سربراہ اور وزیر اعلٰی اروند کیجریوال کے مشیر گوپال موہن نے بی بی سی کو بتایا کہ سواچھ دہلی کا خیال وزیر اعلٰی اور بلدیاتی اداروں کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں آیا تھا۔ اس ایپ کو بنانے کا مقصد ’مختلف اداروں کی علاقائی حدبندیوں کے نظام میں الجھے بغیر‘ حل نکالنا تھا۔

اس ایپ کو استعمال کرنے کے عمومی اصول و ضوابط بالکل سادہ ہیں۔

صارفین کوڑے کے ڈھیر اور فضلے کی تصاویر کھینچ کے اس ایپ پر اپ لوڈ کردیں گے اور ایپ اس تصویر کو خود ہی اس کے محلِ وقوع کے ساتھ ڈیٹا بیس میں محفوظ کردے گی۔ تصاویر اپ لوڈ کرنے کی آخری تاریخ 30 نومبر ہے جس کے بعد بلدیاتی اداروں کے ملازمین ان تصاویر میں نظر آنے والے علاقوں کی صفائی کریں گے۔

موہن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس ایپ کو متعارف کرتے ہوئے محض دو روز گزرے ہیں اور تصاویر کا گویا سیلاب آگیا ہو۔ اس ایپ کو اب تک 24 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے جبکہ تین ہزار تصاویر اپ لوڈ کی جا چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تصاویر اپ لوڈ کرنے کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد ہی حکومت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ان علاقوں کی صفائی پہلے سے موجود بلدیاتی عملے سے ہی کروائی جائے یا عارضی طور پراضافی عملہ اور ٹرک بھرتی کیے جائیں۔

گوپال موہن کا کہنا تھا کہ ’اس تمام عمل کی نگرانی وزیر اعلٰی خود کریں گے ۔ اس کام کے لیے پانچ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کے ساتھ مل کر وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جن علاقوں کی تصاویر اپ لوڈ کی گئی ہیں وہ مستقبل میں بھی صاف ستھرے رہیں۔‘