اتراکھنڈ میں برطانیہ کی ’گاربج گرل‘ کی مہم

اتراکھنڈ کے زائرین اپنے پیچھے بڑی مقدار میں کوڑا کرکٹ چھوڑ جاتے ہیں جن میں پلاسٹک کے کوڑوں کی بھرمار ہوتی ہیں
،تصویر کا کیپشناتراکھنڈ کے زائرین اپنے پیچھے بڑی مقدار میں کوڑا کرکٹ چھوڑ جاتے ہیں جن میں پلاسٹک کے کوڑوں کی بھرمار ہوتی ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں سیلاب کی صورت میں آنے والی ناگہانی تباہی میں جہاں جان خطرے میں ڈال کر فوج کے جوان لوگوں کو بچا کر امدادی کیمپوں میں لا رہے ہیں وہیں مقامی لوگ دہرہ دون جیسی جگہوں پر بڑی تعداد میں اپنوں کا انتظار کرنے والوں کی خدمت میں لگے ہیں۔

کھانا، پانی، اور زندگی گزارنے کے لیے ضروری دوسرے سامان کی قلت کے علاوہ ایک ہفتے میں یہاں کوڑے کا انبار لگ گیا ہے اور کوڑے کا یہ ڈھیر اب اپنے آپ میں ایک مسئلہ بن گیا ہے۔

بی بی سی کی وندنا کے مطابق کوڑے کے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مقامی لوگوں نے مل کر ’گاربج گرل‘ یعنی کوڑا اکٹھا کرنے والی لڑکی کو فون کیا۔

یہ کوڑا اکٹھا کرنے والی لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ برطانیہ کی شہری جوڈی انڈرہل، جنہیں مقامی لوگ ’گاربج گرل‘ کہتے ہیں۔ بغیر گندگی کی پرواہ کیے جوڈی اور اس کے ساتھی گزشتہ کئی دنوں سے اتراکھنڈ میں کوڑا کرکٹ صاف کرنے کی مہم میں لگی ہوئی ہیں، جو سیلاب کے بعد دہرہ دون کے ہیلی پیڈ کے پاس جمع ہو رہا ہے۔

جوڈی ویسٹ واریئرز نامی ایک تنظیم چلاتی ہیں اور لوگوں میں صفائی کے متعلق بیداری پیدا کرنے میں منہمک ہیں
،تصویر کا کیپشنجوڈی ویسٹ واریئرز نامی ایک تنظیم چلاتی ہیں اور لوگوں میں صفائی کے متعلق بیداری پیدا کرنے میں منہمک ہیں

جوڈی کہتی ہیں کہ ہیلی پیڈ پر جب سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو لایا جاتا ہے تو ان کے چہرے پر راحت کا احساس دیکھنے کے قابل ہوتا ہے اور وہاں کا منظر جذباتی ہو جاتا ہے۔ مگر اس سب کو ایک طرف کر کے جوڈی کی ٹیم کی توجہ صرف اور صرف گندگی صاف کرنے پر ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس علاقے میں نئی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ برطانیہ میں پلی بڑھی ہیں لیکن پچھلے کئی برسوں سے وہ بھارت میں ہمالیہ کے علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔

وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دہرہ دون اور دھرم شالہ میں کوڑا ہٹانے اور لوگوں کو اس کے حوالے سے بیدار کرنے کا کام کرتی ہیں۔

ہیلی پیڈ پر اتنی بڑی تعداد میں جمع سیلاب متاثرین، ان کے رشتہ دار، امدادی رضاکار اپنے پیچھے بڑی مقدار میں کوڑا چھوڑ جاتے ہیں جسے اگر نہ ہٹایا جائے تو بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

جوڈی کچھ عرصے پہلے بھارت آئیں اور پہاڑی علاقوں میں گندگی کی سطح دیکھی کر کافی مایوس ہوئیں خاص طور پر پلاسٹک بیگوں کے حوالے سے۔

اس کے بعد جوڈی نے یہیں رہ جانے کی ٹھان لی اور انھوں نے اس قدر گندگی میں اٹے علاقوں میں صفائی کے ساتھ اس کے تيئں بیداری کا کام شروع کیا۔ وہ ’ویسٹ واریئرز‘ نام کی تنظیم چلاتی ہیں۔

ہاتھ میں جھاڑو اور دستانے پہنے صفائی کرتے ان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ دھیرے دھیرے لوگ ان کے ساتھ جڑتےگئے اور وہ چھوٹی سی تنظیم کے ذریعہ یہ کام کر رہی ہیں۔

جوڈی کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد یہ واضح ہوگا کہ صفائی کس قدر ضروری ہے
،تصویر کا کیپشنجوڈی کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد یہ واضح ہوگا کہ صفائی کس قدر ضروری ہے

وہ اتراکھنڈ سانحے کے بارے میں کہتی ہیں: ’ہم نے ماحولیات کی اس قدر ناقدری کی ہے کہ اب قدرت نے ہمیں خبردار کیا ہے، اتنے لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ اتنے لوگوں کی جو جان گئی، وہ ضائع نہ جائے۔ کچھ تو ہم سیکھیں اس سے۔‘

فی الحال تو وہ دہرہ دون میں ہیلی پیڈ کے پاس صفائی میں لگی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

جوڈی کہتی ہیں: ’ابھی امدادی مہم ختم ہو جائے گی۔ جب باقی علاقوں تک ہم پہنچنا شروع کریں گے تو پتہ چلے گا کہ کتنی گندگی اوپر سے بہ کر جمع ہو گئی ہے۔گاؤں دوبارہ بسانے ہیں تو گندگی تو صاف کرنی ہوگی۔ یہ مشکل کام ہوگا ہم اسی کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

جوڈی نے متنبہ کرتے ہوئے کہا: ’بہت سے لوگ مدد کے لیے پہنچ رہے ہیں لیکن ابھی نہ راستے ہیں، نہ کھانے پینے کا سامان۔ ہمیں منصوبہ بند طریقے سے کام کرنا ہوگا۔ ابھی تو آغاز ہے۔ بہت کام کرنا باقی ہے۔‘

پان کی پیک، گندے نالوں کے کوڑے یا کسی بھی طرح کی صفائی میں انہیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ وہ بھارت میں رہ کر یہی کام کرتے رہنا چاہتی ہیں اور فی الحال ان کی ترجیح اتراکھنڈ ہے۔