بھارت: سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے کوششیں

بھارت کی شمالی ریاست اترا کھنڈ میں بارشوں کی وجہ سے آئے سیلاب میں اب بھی ہزآروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں بدھ کی صبح پھر سے شروع کی گئی ہیں۔
گزشتہ شام کو امدادی آپریشن میں مصروف بھارتی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہوگيا تھا جس سے امدادای آپریشن متاثر ہوا تھا جو بدھ کی صبح سے پھر سے شروع کیا گيا۔
ریاست میں سیلاب سے تباہی کا ابھی تک صحیح اندازہ نہیں ہو پایا ہے اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ اس میں مجموعی طور پر کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اب تک تقریباً سوا آٹھ سو لوگوں کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ وجے بہوگنا نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ہلاکتیں ایک ہزار سے بھی زيادہ ہوسکتی ہیں۔
حکام کے مطابق خراب موسم کے سبب امدادی آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہے۔
ریاست کے بعض علاقوں میں آج بھی بارش ہورہی ہے اور محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز بعض علاقوں میں شدید بارشوں کی پیشین گوئی کی ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ریاست کی دور افتادہ پہاڑیوں پر اب بھی تقریبا سات ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
اس میں زيادہ تر وہ لوگ ہیں جو مذہبی زيارت کے لیے اترا کھنڈ گئے تھے اور سیلاب میں پھنس گئے۔ بیشتر راشتے ٹوٹنے اور سڑکیں تباہ ہونے کے سبب بہت سے علاقے منطع ہوگئے ہیں اور ایسے علاقوں میں پھنسے کئی ہزار لوگوں کو نکالا بھی جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی قلت کی بھی اطلاعات ہیں اور متاثرہ گاؤں میں اسہال جیسی بیماریوں کی شکایت مل رہی ہیں۔

بعض متاثرہ علاقوں میں سینکڑو لاشیں تعفن کے سبب فضا کو خراب کر رہی ہیں جن کی آخری رسومات گزشتہ روز شروع کی گئی تھیں لیکن بارش کے سبب روک دیں گئی تھیں۔
ادھر بھارتی فضائیہ پھنسے ہوئے لوگوں نکالنے میں مصروف ہے جس کا ایک ہیلی کاپٹر گذشتہ شام گر کر تباہ ہو گيا تھا۔
انڈین ایئر فورس کے سربراہ ایئر مارشل براؤن نے میڈیا سے بات چيت میں ہیلی کاپٹر میں سوار سبھی بیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ہیلی کاپٹر میں ہلاک ہوئے پانچ افراد کا تعلق ایئر فورس کے عملے سے ہے جبکہ باقی افراد کا تعلق محکمہ ڈزاسٹر مینیجمنٹ اور انڈو تبتین بارڈر پولیس سے ہے۔
بھارتی فضائیہ کے مطابق روسی ساخت کا یہ ہیلی کاپٹر اتراکھنڈ کے گوری کُنڈ علاقے میں امدادی مشن پر تھا کہ اس دوران گر کر تباہ ہوگيا۔
حکام کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حادثہ خراب موسم کے سبب پیش آيا یا پھر کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ کے بارے میں طویل مدتی تعمیر نو کا پروگرام تیار کیا جا رہا ہے لیکن فی الفور ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں تک امداد پہنچانا ہے جو شدید موسم اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ 60 برسوں کے ریکارڈ کے مطابق اس سال مون سون کے شروع میں ہونے والی بارشیں سب سے زیادہ ہیں۔







