متاثرہ شخص کے کندھے پر سوار رپورٹر برطرف

ناراین پرگائیں
،تصویر کا کیپشنپرگائیں نے کہا لوگ ہمیں غلط اور غیر انسانی قرار دے رہے ہیں لیکن اصل میں ہم کچھ متاثرین کی مدد کر رہے تھے

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں آئے خوفناک سیلاب کی خبر ایک متاثرہ شخص کے کندھے پر بیٹھ کر دینے والے ٹی وی صحافی کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر اس رپورٹر پر کافی تنقید ہو رہی تھی۔

یہ صحافی نیوز ایکسپریس نامی ٹی وی چینل کے لیے کام کرتے تھے۔ چینل نے ایک بیان میں اپنے صحافی کے اس رویے کو غیر انسانی قرار دیا ہے۔

چینل کے مطابق اس فوٹیج کو نشر نہیں کیا گیا ہے۔ چینل نے کہا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس ویڈیو کو کس نے اپ لوڈ کیا۔

شمالی بھارت میں بارش اور زبردست سیلاب کی وجہ سے گزشتہ دس دنوں میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق آٹھ سو سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔

اتراکھنڈ سے خبریں بھیجنے والے نیوز اکسپریس کے نامہ نگار نارائن پرگائیں کے اس ویڈیو کو ویب سائٹس پر ہزاروں بار دیکھا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں اس صحافی کو پانی میں کھڑے ایک شخص کے کندھے پر چڑھ کر کیمرے کے سامنے بولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اتراکھنڈ میں اچانک مون سونی بارش سے زبردست جانی مالی نقصان ہوا ہے
،تصویر کا کیپشناتراکھنڈ میں اچانک مون سونی بارش سے زبردست جانی مالی نقصان ہوا ہے

نیوز ایکسپریس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پرگائیں ایک سنگین بدسلوکی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے جو کیا ہے، وہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ چینل کے کلچر کے بھی خلاف ہے۔‘

چینل کے سربراہ نشانت چترویدی نے خبر ایجنسی اے ایف پی سے کہا ’خبر کے لیے آپ کسی کے کندھے پر نہیں چڑھ سکتے۔ ہم نے انہیں منگل کو برطرف کر دیا ہے۔‘

پرگائيں نے پہلے اس کا دفاع کرتے ہوئے نيوزلانڈري ڈاٹ کام نام کی ویب سائٹ سے کہا کہ اس شخص نے سیلاب میں اس کے گھر کو ہونے والے نقصان کی خبر دینے کے لیے کہا تھا۔

انہوں نے کہا ’ہم نے کچھ پیسے اور کچھ اشیاء دے کر ان کی مدد کی، اس کے لیے وہ ہمارے احسان مندتھے۔ لوگ ہمیں غلط اور غیر انسانی قرار دے رہے ہیں لیکن اصل میں ہم کچھ متاثرین کی مدد کر رہے تھے۔‘

تاہم پرگائیں نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے جو کیا وہ غلط تھا لیکن ان کے خیال میں اس کے لیے ان کا کیمرہ مین ذمہ دار ہے۔