بھارت: بارشوں سے امدادی آپریشن متاثر

بھارت کی شمالی ریاست اترا کھنڈ میں سیلاب کے سبب دور افتادہ پہاڑیوں پر پھنسے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا کام آج بارش کے سبب پھر متاثر ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ریاست کے مختلف علاقوں میں اب بھی تقریباً پانچ ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں جن میں بدری ناتھ میں سب سے زیادہ، ساڑھے تین ہزار لوگ ہیں۔
علاقے میں امدادی آپریشن کے سربراہ اور بھارتی فضائیہ کے سینیئر افسر راجیش اسار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح امدادی کارروائی شروع کی گئی لیکن بدری ناتھ میں تیز بارش کے سبب پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم کے بہتر ہوتے ہی آپریشن دوبارہ شروع کیا جائیگا اور بدری ناتھ کے لیے خاص طور پر ایک درجن سے زيادہ ہیلی کاپٹر تیار کھڑے ہیں۔
تقریباً گيارہ روز قبل تیز مون سون بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب سے ابھی جان اور مال کے نقصان کا صحیح اندازہ نہیں ہو پایا ہے۔
ریاست کے وزیر اعلی وجے بہوگنا نے اب تک ایک ہزار سے زيادہ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اب تک تقریباً آٹھ سو سے زیادہ لاشیں ملی ہیں لیکن اب بھی سینکڑوں افراد لا پتہ بتائے جارہے ہیں۔
ادھر بارش کے سبب آنے والے سیلاب میں ہلاک ہونے سینکڑوں افراد کی آج اجتماعی آخری رسومات شروع کی گئی ہیں اور اس کا آغاز کیدار ناتھ کے علاقے سے ہوا جہاں سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

کیدار ناتھ مندر کے آس پاس تقریباً چھ سو لاشیں پائی گئی تھیں لیکن حکام نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ کتنی لاشوں کی آخری رسمات ادا کی جا چکی ہیں۔
اس علاقے میں بیشتر لاشیں تعفن کے سبب فضاء کو خراب کر رہی ہیں اور حکام آخری رسومات کو وباء پھیلنے سے قبل پورا کرنا چاہتے ہیں۔
ہندو عقیدے کے مطابق لاشیں جلائی جاتی ہیں لیکن وہاں لکڑیوں کی کمی ہے جو ہیلی کاپٹر سےگرائی گئی ہیں تاہم بارش کے سبب اس میں بھی مشکلیں آرہی ہیں۔
اس دوران ملک کے مختلف علاقے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گم شدہ اہل خانہ کی تلاش میں اترا کھنڈ پہنچی ہے۔
پہاڑی ریاست اترا کھنڈ میں ہندؤوں کے بہت سے قدیم مندر اور مقدس مقامات ہیں جن کی زیارت کے لیے ہزاروں لوگ جاتے ہیں اور اسی مقصد سے وہاں گئے بہت سے لوگ لا پتہ ہیں۔
مون سون کی بارشوں سے آنے والے اس سیلاب سے اترا کھنڈ کی بیشتر سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔ کئی علاقوں میں پل بہہ گئے ہیں اور مختلف علاقے ایک دوسرے سے منقطع ہوگئے ہیں۔
اب جیسے جیسے پانی کی سطح کم ہو رہی ہے تو نقصان کا اندازہ لگنے لگا ہے۔ رام باڑ اور کیدری ناتھ کے علاقوں میں اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ بعض جگہوں پر مکانات اور عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی ہیں۔







