دہلی: وکیل پر پیشہ وارانہ بدسلوکی کا الزام

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں آنے والے عدالتی فیصلے کے بعد ایک وکیلِ صفائی کے بیان کو ’پیشہ وارانہ بد سلوکی‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی بار کونسل کے نائب صدر راکیش شیراوت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکیل صفائی اے پی سنگھ اپنے اس بیان کی وجہ سے اگر مجرم پائے گئے تو وہ ’عمر بھر کے لیے اپنا لائسنس کھو سکتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ جمعہ کو عدالت نے 16 دسمبر سنہ 2012 کو نئی دہلی میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی کے چار مجرموں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔
اس حوالے سے اے پی سنگھ نے کہا تھا کہ اگر ان کی بیٹی نے شادی سے پہلے جنسی تعلق بنایا ہوتا اور اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ دیر رات تک باہر جاتی تو میں نے ’اسے زندہ جلا دیا ہوتا‘۔
انھوں نے سوموار کو بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ذاتی بیان کو سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے بیان کیا گیا ہے۔
اے پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’مجھ سے ذاتی معاملے پر میرے خیال کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور میں نے ایک باپ کی حیثیت سے اس کا ذاتی طور پر جواب دیا تھا‘۔
انھوں نے کہا ’میرا جواب کسی ریپ کے حوالے سے نہیں تھا اور اسے غیر مناسب طور پر پیش کیا گیا ہے‘۔
یاد رہے کہ اے پی سنگھ چلتی بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں مجرم اکشے ٹھاکر اور ونے شرما کا مقدمہ لڑ رہے تھے انھوں نے جمعہ کو عدالت سے باہر ان کے دونوں مؤکلوں کو سزائے موت کے فیصلے کے بعد یہ بات کہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بیان کو 23 سالہ طالبہ کے ذیل میں دیکھا جا رہا ہے جس کی گزشتہ دسمبر میں موت ہو گئی تھی اور اسی لیے اس بیان پر بھارت میں غصہ پایا جاتا ہے۔
دہلی بار کونسل کے راکیش شیراوت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ اے پی سنگھ کا بیان کافی ہتک آمیز تھا جو پیشہ وارانہ بدسلوکی کے زمرے میں آتا ہے‘۔

انھوں نے کہا ’ایک وکیل کے طور پر آپ کو اپنا وقار قائم رکھنا ہوتا ہے، ہمیں کسی معاملے پر اظہار خیال میں بہت محتاط رہنا پڑتا ہے اور بطور خاص ایسے موقعے سے جب ساری دنیا کی نگاہیں ہم پر ہوں‘۔
شیراوت نے کہا کہ سنگھ کے بیان نے وکلاء برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور ’ہر کوئی اس پر نالاں ہے‘۔
راکیش شیراوت نے کہا کہ 25 اراکین پر مشتمل دہلی بار کونسل جمعہ کو اس معاملے پر بحث کرے گی کہ اے پی سنگھ کے خلاف کیا اقدام کیے جائیں۔ انھوں نے کہا ’اگر وہ مجرم ثابت ہوئے تو ہم ایک مقررہ مدت یا پھر ساری زندگی کے لیے ان کا لائسنس منسوخ کر سکتے ہیں‘۔







