دہلی ریپ کیس: نابالغ کو مجرم قرار دیا گیا

بھارت کے دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت میں گذشتہ سال دسمبر میں ہونے والے گینگ ریپ واقعہ میں ملوث ایک نابالغ کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔
مجرم کے وکیل کے مطابق ان پر ریپ، قتل، شواہد مٹانے اور دوسرے جرائم کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ جب انھوں نے یہ جرائم کیےتھے اس وقت ان کی عمر 17 سال سے چھ ماہ کم تھی اس لیے وہ قانونی طور پر نابالغوں کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔
انھیں زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے اصلاحی مرکز بھیجے جانے کی سزا کا سامنا ہے کیونکہ بھارت میں نابالغوں کے لیے جیل کی قید نہیں ہے۔
متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں بالغ قرار دے کر پھانسی کی سزا دی جائے۔
نابالغ مجرم نے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے دوسرے چار ملزمان کی طرح تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
اس سے قبل جووینائل جسٹس بورڈ یعنی بچوں کے انصاف کی عدالت نے کئی بار اپنے فیصلے مؤخر کیے تھے۔
دہلی میں ایک طالبہ کو بس میں شدید تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں تشدد کا شکار ہونے والی طالبہ کچھ روز بعد ہلاک ہو گئی تھی۔
دہلی گینگ ریپ کے اس مقدمے کے پانچ اور ملزمان بھی ہیں جن میں سے ایک ملزم جیل میں پر اسرار طور پر ہلاک ہو گیا جبکہ چار کا فیصلہ ستمبر کے وسط تک متوقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریپ کا یہ واقعہ 16 دسمبر کو جنوبی دہلی میں پیش آیا تھا۔
پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزموں نے بس میں ایک 23 سالہ طالبہ کا اجتماعی ریپ کیا اورانہیں انتہائی بے دردی کے ساتھ زدوکوب کیا تھاجس کے بعد سنگاپور کے ایک ہسپتال میں اس لڑکی کی موت ہو گئی تھی۔
اس واقعے کے بعد ریپ اور خواتین پر تشدد کے واقعات کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہوئے تھے۔
بھارت میں کئی حلقوں نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ نابالغوں کے لیے قوانین میں ترامیم کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔







