دلی ریپ کیس، سترہ سالہ ملزم کی سماعت مکمل

بس کے اندر ہوئے اس بیہمانہ گينگ ریپ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس کے خلاف ملک کے کئي شہروں میں مظاہرے شروع ہوئے
،تصویر کا کیپشنبس کے اندر ہوئے اس بیہمانہ گينگ ریپ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس کے خلاف ملک کے کئي شہروں میں مظاہرے شروع ہوئے

بھارتی دارالحکومت دلی کی ایک بس میں گذشتہ دسمبر میں ایک طالبہ کے ساتھ ہوئےگینگ ریپ کیس کے ایک سترہ سالہ نابالغ ملزم کے خلاف عدالت میں سماعت مکمل ہوگئی ہے۔

دلی میں نابالغوں کی ایک عدالت ’جوونائِل جسٹس بورڈ‘ اس سے متعلق اپنا فیصلہ گيارہ جولائی کو سنائی گي۔

سترہ برس کے اس لڑکے پر ریپ، قتل اور اغوا جیسے جرائم کرنے کے الزامات عائد کیےگئے تھے اور قصوروار پائے جانے پر اسے کسی اصلاحی ادارے میں زیادہ سے زیادہ تین برس کی سزا دی جاسکتی ہے۔

دوران سماعت اس ملزم نے بھی چار دیگر ملزمان کی طرح تمام الزامات سے انکار کیا تھا۔

بھارتی قوانین کے مطابق سترہ برس کی عمر تک کے فرد کو نابالغ مانا جاتا ہے اور ایسے نابالغ ملزم پر مقدمہ ’جوونائِل جسٹس ایکٹ‘ کے تحت چلایا جاتا ہے اور اس کے تحت زیادہ سے زیادہ تین برس قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

دیگر بالغ ملزمان کے مقدمہ کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی جس میں سماعت جاری ہے۔ ان سب کو اس کیس میں موت کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

اس کیس کے ایک چھٹے ملزم دلی کی تہاڑ جیل میں مردہ پائے گئے تھے اور پولیس کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے اس شخص نے خودکشی کی تھی۔

لیکن ملزم کے وکیل اور اُن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جیل میں دانستہ طور پر قتل کیا گيا۔

سولہ دسمبر کی رات کو ایک بس کے اندر ہوئے اس بیہمانہ گينگ ریپ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس کے خلاف ملک کے کئي شہروں میں مظاہرے شروع ہوئے۔

متاثرہ طالبہ کا تعلق ریاست یوپی سے تھا جو نفسیات کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ تھیں اور گھر جانے کے لیے جس بس پر سوار ہوئیں اسی بس میں ان پر اور ان کے دوست پر حملہ کیا گيا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے انہیں بڑی بے رحمی سے مارا اور پھر طالبہ کے ساتھ اجمتاعی جنسی زیادتی کی۔

اس واقعے میں مذکورہ لڑکی کو شدید چوٹیں آئی تھیں اور واقعے کے تقریباً دو ہفے بعد سنگا پور کے ایک ہسپتال میں وہ چل بسیں تھیں۔