دہلی، بچی کے ریپ پر پارلیمان میں بحث

بعض جگہوں پر پولیس اور مظاہرین میں ہاتھاپائی بھی دیکھی گئی
،تصویر کا کیپشنبعض جگہوں پر پولیس اور مظاہرین میں ہاتھاپائی بھی دیکھی گئی

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پانچ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ہونے والی شدید بحث میں ریپ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیشتر ارکان پارلیمان نے معاشرے میں بڑھتی اس برائی کے اسباب کا پتہ کرنے کی بات کہی اور اسے کسی بھی حال میں روکنے پر زور دیا گیا۔

اپوزیشن جماعت کے ارکان پارلیمان کی جانب سے حکومت پر سخت نکتہ چینی اور دہلی میں ہونے والے مظاہروں پر اپنے رد عمل میں وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے نے کہا کہ ریپ کے واقعات صرف دہلی میں ہی نہیں بلکہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی لاپرواہی کے معاملے کی تفتیش کے احکامات دیےگئے ہیں اور جن پولیس اہلکاروں پر الزام ہے انہیں پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔

راجیہ سبھا میں اس پر بحث کا آغاز حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ہوا اور بعد میں تقریباً سبھی جماعتوں کے ارکان نے اس پر تبادلہ خیال کیا۔

بیشتر ارکان کا کہنا تھا کہ جہاں پولیس کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے وہیں سماج میں بڑھتی اس برائی کے اسباب جاننے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اسے نمٹنے کے لیے موثر کارروائی ہو سکے۔

بہت سے ارکان نے کہا کہ ایسے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور سب کو ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کل جماعتی میٹنگ بلائے۔

اس دوران پانچ سالہ بچی کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے معاملے میں ایک اور ملزم کو پولیس نے ریاست بہار کے لکھی سرائے سےگرفتار کیا ہے۔

ریپ کے خلاف دلی کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے
،تصویر کا کیپشنریپ کے خلاف دلی کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

دہلی پولیس اور ریاست بہار کی پولیس نے ایک مشترکہ آپریشن کر کے پردیپ نامی شخص کو بڑہیا تھانے کے علاقے سے رات تقریباً ڈیڑھ بجے پکڑا۔

پولیس نے منوج نامی شخص کو پہلے ہی بہار کے مظفرپور سے گرفتار کیا تھا جس سے پوچھ گچھ کے بعد پتہ چلا کہ پردیپ بھی اس میں شامل تھا۔

پولیس کے مطابق پانچ برس کی بچی کو ان دونوں ملزمان نے پہلے اغوا کیا تھا اور پھر اسے دو روز تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور جب انھیں لگا کہ بچی کی موت ہوگئی تب وہ اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

ادھر جنسی زیادتی کے اس نئے واقعے کے خلاف مظاہروں کا جو سلسلہ جمعے کو شروع ہوا تھا، وہ پیر کو بھی جاری ہے۔

اتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے تھے جس کے بعد شام کو انڈيا گیٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گيا تھا۔

پیر کو بھی انڈیا گيٹ کی طرف آنے والے میٹرو سٹیشن بند ہیں لیکن لوگ دوسرے علاقوں میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔

یہ مظاہرے بیک وقت کئی مقامات پر ہو رہے ہیں۔ دہلی پولیس کے دفتر کے باہر جنتر منتر، آل انڈیا میڈیکل سائنسز ہسپتال، پارلیمنٹ سٹریٹ اور کئي سیاسی رہنماؤں کے گھر کے باہر لوگ نعرے بازي کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ دہلی کے پولیس کمشنر کو برخاست کیا جائے اور جو پولیس اہلکار اس معاملے میں لاپروائی کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

مظاہروں کے پیش نظر انڈیا گیٹ، دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت اور مرکزی وزیرِ داخلہ سشیل کمار شندے کے گھر کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

جنسی زیادتی کا شکار بچی کا علاج دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ ادارے (ایمس) میں ہو رہا ہے۔ وہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت مستحکم ہو رہی ہے اور ابھی اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق بچی ہوش میں ہے اور اپنے والدین سے بات بھی کر پا رہی ہے۔

ملک میں ایک بار پھر خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے بارے میں زبردست بحث چھڑ گئی ہے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ روز وزیر اعظم من موہن سنگھ نے خواتین کی سکیورٹی کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ چھوٹی بچی کے ساتھ ہونے والا یہ وحشیانہ واقعہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اس طرح کے جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے معاشرے میں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔