دہلی میں ریپ کے خلاف مظاہرے جاری

اتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آئے
،تصویر کا کیپشناتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آئے

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پانچ سال کی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا۔

اتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے کئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آئے۔

بعض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھارتی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا جن پر قابو پانے کے لیے پولیس کو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب حزب اختلاف پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواتین کارکنوں نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی رہائش کی جانب بڑھنے کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں روک دیا۔

مظاہروں کے پیش نظر انڈیا گیٹ، دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا ڈکشت اور مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے گھر کے باہر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اتوار کی صبح سے ہی مظاہرین دہلی پولیس کے صدر دفتر کے باہر جمع ہونے لگے تھے۔

دہلی پولیس کے صدر دفتر کے باہر جمع مظاہرین نے پولیس کمشنر کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔

پولیس نے پہلے ہی اس واقعہ کے اہم ملزم منوج کمار کو بھارتی ریاست بہار سے گرفتار کر کے دہلی لا چکی ہے جہاں اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ ادارے (ایمس) جہاں جنسی زیادتی کا شکار بچی داخل ہے کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت مستحکم ہو رہی ہے اور ابھی اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق بچی ہوش میں ہے اور اپنے والدین سے بات بھی کر پا رہی ہے۔

اتوار کی صبح ادارے کے ترجمان نے کہا کہ بچی پر ادویات کا مثبت اثر ہو رہا ہے اور وہ رات بھر اچھی طرح سے سوئی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے خواتین کی سیکورٹی کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی بچی کے ساتھ ہونے والا یہ وحشیانہ واقعہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ اس طرح کے جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے معاشرے میں اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔