دہلی ریپ:متاثرہ بچی کی حالت ’خطرے سے باہر‘

بھارت کے درالحکومت نئی دہلی میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی پانچ سالہ بچی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بچی اب ہوش میں ہے اور اپنے والدین سے بات بھی کر رہی ہے۔
اتوار کی صبح میڈیکل بلیٹن جاری کرتے ہوئے ’ایمس‘ کے ترجمان نے کہا کہ بچی پر ادویات کا مثبت اثر ہوا ہے اور رات بھر وہ اچھی طرح سے سوئی ہے۔
جنسی زیادتی کا یہ واقعہ گاندھی نگر کے علاقے میں پیش آیا تھا اور پولیس اس واقعے کے اہم ملزم منوج کمار کو گرفتار کر چکی ہے۔
22 سالہ منوج کو جمعہ کی رات ریاست بہار کے ضلع مظفرپور سے حراست میں لیا گیا تھا اور سنیچر کی صبح ضلعی مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے بعد پولیس تین دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر پولیس اسے دہلی لائی ہے۔
اطلاعات کے مطابقق منوج کو اتوار کو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی بچی 40 گھنٹے تک کمرے میں بند رہی اور ملزم منوج کمار بچی کو مردہ سمجھ کر بھاگ گیا تھا۔
دہلی میں ہی اتوار کی صبح اس معاملے پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کی بڑی تعداد پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہوئی ہے۔ یہ مظاہرین پولیس کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ملک میں خواتین کی سکیورٹی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹی بچی کے ساتھ ہوا وحشیانہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ اس طرح کی برائی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سماج میں اجتماعی کوشش کیے جانے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پولیس کے کام کاج کے طریقے کی مذمت کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد ہونے والا احتجاج ہمیں بتاتا ہے کہ لوگوں کے غصے سے نپٹتے وقت ان کے جذبات اور خدشات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سنیچر کو دہلی میں بچوں کے تحفظ کے کمیشن نے دہلی پولیس کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ متاثرہ بچی کے والدین کی شکایت پر پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کیوں نہیں کیا اور ان کے ساتھ برا سلوک کیوں کیا؟
ادھر، کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے ہسپتال میں متاثرہ بچی کے والدین سے ملاقات کی ہے۔ یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ اس وقت بیانات کی نہیں بلکہ مجرم کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے.
وہیں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف ایسے جرم کرنے والے گنہگاروں کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بھارت نے ریپ کے مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال دہلّی کی ایک چلتی بس میں ریپ کے واقعے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ کی موت کے بعد دارالحکومت میں مظاہروں کے ذریعے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ملک میں خواتین کے تئیں سماجی رویے پر پرزور بحث چھڑ گئي۔
اس واقعے کے بعد ریپ کے تعلق سے بنے پرانے قوانین میں ترمیم کی گئی تاہم یہ معاملہ اس ضمن ایک نیا بہیمانہ واقعہ ہے۔







