دلی گينگ ریپ مقدمہ، نابالغ ملزم کا فیصلہ محفوظ

بھارت کی ایک عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں دلی میں ہونے والےاجتماعی ریپ کے بھیانک واقعے میں ملوث ایک نابالغ ملزم کے بارے میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت 25 جولائی کو اس بارے میں اپنا فیصلہ سنائےگی۔
ریپ کے اس واقعے کے مقدمے کا یہ پہلا فیصلہ ہوگا۔ قانون کے تحت کسی نابالغ کو جیل میں بند نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ریپ اور قتل کے مقدمے میں ملوث نابالغ ملزم کو زیادہ سے زیادہ تین برس کے لیے اصلاحی مرکز میں رکھنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
نابالغ بچوں کے معاملات کی عدالت کے جج نے لوٹ مار کے ایک معاملے میں آج اپنا فیصلہ سنا دیا ہے لیکن ملزم کے نابالغ ہونے کے سبب اس فیصلے کو ظاہرنہیں کیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق اٹھارہ برس سے کم عمر کے بچے نابالغ ہیں۔
دہلی میں ایک طالبہ پر بس میں شدید تشدد کیا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں تشدد کا شکار ہونے والی طالبہ کچھ روز بعد ہلاک ہو گئی تھی۔
دہلی کینگ ریپ کے اس مقدمے کے پانچ اور ملزمان بھی ہیں۔ جن میں سے ایک ملزم جیل میں پر اسرار طور پر ہلاک ہو گیا جبکہ چار کا فیصلہ اس مہینے کے آخر میں متوقع ہے۔
ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ جوونائل جسٹس بورڈ کی عدالت میں متاثرہ لڑکی کے والدین بھی موجود تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کے باہر صحافیوں کا ایک ہجوم جمع تھا۔
ریپ کا یہ بھیانک واقعہ 16 دسمبر کو جنوبی دلی میں پیش آیا تھا۔ پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزموں نے بس میں ایک 23 سالہ طالبہ کا اجتماعی ریپ کیا اورانہیں انتہائی بے دردی کے ساتھ زدوکوب کیا تھا۔ جس کے بعد سنگاپور کے ایک ہسپتال میں اس لڑکی کی موت ہو گئی تھی۔
اس واقعے کے بعد ریپ اور خواتین پر تشدد کے واقعات کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہوئے تھے۔
بھارت میں کئی حلقوں نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کیا اور نابالغوں کے لیے قوانین میں ترامیم کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
حکومت نے اس واقعے کے بعد ریپ پر قابو پانے کے لیے قانون میں ترمیم کے ساتھ ساتھ پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے بھی کئی اقدامات کیے ہیں۔







