گینگ ریپ معاملے میں گرفتاریاں

بھارت میں پولیس نے کہا ہے کہ ملک کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں ایک 30 سالہ امریکی خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ کے معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکام نے کہا کہ امریکی خاتون کو منگل کے روز اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب انھوں نے سیاحت کے لیے معروف شہر منالی میں ایک ٹرک سے لفٹ لیا تھا جس میں تین افراد موجود تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اس خاتون کو ایک سنسان جگہ لے گئے جہاں ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور ان کا سامان بھی لوٹ لیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ چلتی بس میں اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے اور پھر اس کی وجہ سے اس کی ہلاکت کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اس کے بعد ریپ کے قانون میں سختی لائی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پانچ مردوں اور ایک لڑکے کو ریپ کا مرتکب قرار دیا گیا ہے جس میں سے ایک شخص نے جیل میں خود کو پھانسی لگاکر ہلاک کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی خاتون سوموار کو ہماچل پردیش کے شہر منالی آئیں تھیں اور وہ غیر ملکیوں میں مشہور ایک مضافاتی مقام وششٹھ جا رہی تھیں۔

ان کو دیر ہوگئی اور وہ منگل کی صبح ٹیکسی کی تلاش میں سرگرداں تھیں جب ٹرک میں سوار افراد نے انہیں لفٹ کی پیشکش کی تھی۔
اس واقعے کے بعد خاتون نے مقامی پولیس سٹیشن میں ریپ کی ایف آر درج کرائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور منالی کے اطراف میں سڑکوں پر بیریئر لگاکر انھوں نے اس ٹرک کی نشاندہی کر لی جس میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
واضح رہے کہ مارچ میں سوئٹزر لینڈ کی ایک سیاح کے ساتھ بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں اجتماعی ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس سلسلے میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی ماہ بھارت میں جنسی زیادتی کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے جس میں بعض صورت میں موت کی سزا کا بھی جواز رکھا گیا ہے۔
بہر حال بھارت میں ریپ کے واقعات میں بظاہر اضافہ نظر آ رہا ہے کیونکہ اب لوگ اس کی رپورٹ درج کرانے لگے ہیں جبکہ دوسرے ممالک کے سیاح کو شاذونادر ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔







