دہلی گینگ ریپ: چار مجرموں کو موت کی سزا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں عدالت نے گذشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی کے چار مجرموں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔
اس معاملے کے کل چھ ملزمان میں سے ایک پہلے ہی انتقال کر چکا ہے جبکہ ایک نابالغ مجرم کو قید کی سزا پہلے ہی سنائی جا چکی ہے۔
منگل کے روز فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے چار ملزمان مکیش سنگھ، ونے شرما، اکشے ٹھاکر اور پون گپتا کو مجرم قرار دے دیا تھا اور اس مقدمے کا فیصلہ جمعہ تک کے لیے محفوظ کر لیا تھا۔
عدالت نے اس مقدمہ کو شاذ و نادر کے زمرے کا کیس بتاتے ہوئے چاروں مجرموں کو موت کی سزا سنائي۔
جسٹس یوگيش کھنہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کیا گيا کہ اور اس میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔
اس فیصلے کے ردعمل میں دفاعی وکیل اے پی سنگھ نے عدالت پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ عدالت پر حکومت کا سخت دباؤ تھا اور ’یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن وکیل استغاثہ نے عدالت کے باہر میڈيا سے بات چيت میں اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آئین اور نئے قانون کے مطابق صحیح سزا سنائی ہے۔
اس مقدمے میں ملوث چھ ملزمان میں سے ایک ملزم کو نابالغ ہونے کی وجہ سے علیحدہ مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور گذشتہ ماہ اس نابالغ ملزم کو بھی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا اور اسے تین سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
ان کے علاوہ پانچ ملزمان میں سے ایک رام سنگھ مارچ میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ رام سنگھ نے خود کشی کی تاہم ان کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔
سولہ دسمبر 2012 کی رات کو تئیس سالہ لڑکی کو ایک بس میں چھ افراد نے جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے کے بعد خراب حالت کی وجہ سے متاثرہ لڑکی کو ابتدائی علاج کے بعد سنگاپور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ اس واقعے کے دو ہفتے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئیں تھیں۔
ان کی ہلاکت پر بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ملک میں خواتین کے ساتھ سلوک پر بحث شروع ہوگئی تھی۔
اسی کے بعد حکومت نے ریپ اور خواتین کے ساتھ تشدد کے حوالے سے نیا قانون وضع کیا تھا جس میں موت کی سزا کی بات کی گئی تھی۔
ان قوانین کے تحت ایسے ریپ کے کیسز جن میں متاثرہ فرد کی ہلاکت ہو جائے، ان میں مجرم کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
بھارت میں ہر برس ریپ کے پچیس ہزار سے زیادہ واقعات درج کیے جاتے ہین ۔ گزشتہ برس پورے ملک میں ریپ کے ایک لاکھ سے زیادہ واقعات عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔







