ممبئی ریپ کیس: پانچوں مشتبہ افراد گرفتار

بھارتی پولیس نے ممبئي ریپ کیس میں مطلوب پانچویں شخص کو دارالحکومت دہلی سے گرفتار کیا ہے
،تصویر کا کیپشنبھارتی پولیس نے ممبئي ریپ کیس میں مطلوب پانچویں شخص کو دارالحکومت دہلی سے گرفتار کیا ہے

بھارت کے مغربی شہر ممبئی میں پولیس نے ایک 22 سالہ خاتون صحافی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے الزام میں مطلوب تمام پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ اجتماعی ریپ کا واقعہ بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں جمعرات کو پیش آیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آخری مشتبہ شخص کو دارالحکومت دہلی سے اتوار کو گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ممبئی لایا جا رہا ہے۔

اس کیس میں سنیچر کو گرفتار کیے جانے والے تیسرے شخص کو اتوار کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جبکہ پہلے سے گرفتار دو افراد حراست میں ہیں اور ان میں سے ایک ملزم کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اس لیے ان کے خلاف نابالغوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

خاتون صحافی کے ساتھ شہر کے وسطی علاقے میں کپڑا بنانے والے ایک بند کارخانے میں حملہ کیا گیا تھا۔ وہ وہاں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ فوٹو شوٹ کے لیے گئی تھیں۔

اس معاملے نے عوام میں غم و غصے کی وہی لہر پیدا کردی ہے جو اس سے قبل دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے سانحے کے وقت سامنے آئی تھی۔

ادھر ممبئی اور بھارت کے دیگر شہروں میں سنیچر کو سینکڑوں افراد نے مظاہرہ اور احتجاج کیا جبکہ متعدد افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس واقعے کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔ ممبئی کے خاموش احتجاج میں فوٹو جرنلسٹوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پولیس نے بتایا کہ انھوں نے سب سے پہلے ایک 19 سالہ بے روزگار نوجوان کو جنوبی ممبئی کے علاقے سے جمعہ کو گرفتار کیا جبکہ دیگر دو افراد کو سنیچر کے روز گرفتار کیا گیا۔

اس حملے کی شکار خاتون جو کہ متعدد زخموں کی وجہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، انھوں نے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد کام پر لوٹنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ریپ زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔ میں ملزمان کے لیے سخت سے سخت ‎سزا کی خواہاں ہوں۔‘

سنيچر کو ممبئی سمیت بھارت کے کئی شہروں میں اس واقعے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنسنيچر کو ممبئی سمیت بھارت کے کئی شہروں میں اس واقعے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

پولیس کے مطابق اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون ممبئی میں ایک انگریزی رسالے کے ساتھ وابستہ ہیں اور وہ جمعرات کو شکتی ملز نامی کارخانے میں اپنے ساتھی کے ساتھ شوٹ کرنے گئی تھیں۔

اس حملے کے دوران ان کے مرد ساتھی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت میں 16 دسمبر سنہ 2012 کو جنوبی دہلی کے علاقے میں ایک لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

جنسی زیادتی کی شکار لڑکی کو حملے میں چوٹیں آئی تھیں جن کا پہلے دہلی کے ہسپتال اور پھر سنگاپور میں علاج ہوا لیکن علاج کے دوران ہی 29 دسمبر سنہ 2012 کو ان کی موت ہو گئی تھی۔

اس واقعہ کے خلاف بھارت میں مظاہرے ہوئے تھے اور اس کے سبب خواتین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے گئے لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کافی نہیں۔