دہلی ریپ کیس کا فیصلہ، چار افراد مجرم قرار

دلی گینگ ریپ کے واقعے کے بعد بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے
،تصویر کا کیپشندلی گینگ ریپ کے واقعے کے بعد بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے

گذشتہ سال دسمبر میں بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کرنے والے چار ملزمان کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ مجرمان کو سزا بدھ کے روز سنائی جائے گی۔

تئیس سالہ لڑکی کو ایک بس پر بہیمانہ گینگ ریپ اور تشدد کا نشانے بنایا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دو ہفتوں بعد ہلاک ہوگئیں تھیں۔

ان کی ہلاکت کے بعد بھارت کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ملک میں خواتین کے ساتھ سلوک پر بحث شروع ہوگئی۔

اس کیس کے چاروں ملزمان نے مقدمے کے ابتدا میں خود کو بے قصور قرار دیا تھا۔

ان کے علاوہ ایک پانچویں ملزم، رام سنگھ، کو مارچ میں اپنے جیل میں ہلاک پایا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ رام سنگھ نے خود کشی کی تاہم ان کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔

اس کیس میں ملوث چھ ملزمان میں سے ایک ملزم کو نابالغ ہونے کی وجہ سے علیحدہ مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ گذشتہ ماہ اس نابالغ ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔

دہلی میں ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ عدالت کے فیصلے پر متاثرہ لڑکی کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تبھی سکون حاصل ہوگا جب مجرموں کو موت کی سزا ہو گی۔ پھانسی سے کم ہمیں کچھ قبول نہیں ۔‘

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے کہا کہ ’عدالت مجرموں کو ایسی مثالی سزا دے کہ لوگوں کے ذہن میں قانون کا خوف پیدہ ہو اور لوگ ایسے جرائم کا ارتکاب نہ کریں۔‘

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجامدار نے بتایا کہ اس تاریخی مقدمے میں ایک سو سے زیادہ گواہوں نے اپنے بیانات جمع کروائے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایس سے پینتیس سال عمر والے ان ملزمان کو ملک گیر احتجاج کے بعد بنائے گئے نئے قوانین کے تحت سزائے موت کا سامنا ہے۔

ان قوانین کے تحت ایسے ریپ کے کیسز جن میں متاثرہ فرد کی ہلاکت ہو جائے، ان میں مجرم کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

بھارت میں ہر برس ریپ کے پچیس ہزار سے زیادہ واقعات درج کیے جاتے ہین ۔ گزشتہ برس پورے ملک میں ریپ کے ایک لاکھ سے زیادہ واقعات عدالتوں میں زیر سماعت تھے ۔