دہلی کی آلودگی کا حل، ’ایک دن جفت اور ایک طاق کا‘

دہلی ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی کے سبب دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندہلی ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی کے سبب دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہا ہے

بھارتی ریاست دہلی کے وزیر اعلی کی جانب سے شہر میں آلودگی کم کرنے کا فیصلہ تنازعے کا شکار ہوگیا ہے۔

انھوں نے آلودگی کم کرنے کے لیے ایک دن طاق عدد والی نجی گاڑیوں کو چلانے اور دوسرے دن جفت عدد نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

<link type="page"><caption> دہلی کی آلودگی کا حل ’کار فری ڈے‘؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151022_india_car_free_day_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> دلی میں سانس لینا دوبھر، لوگ شہر چھوڑنے کی فکر میں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/06/150605_delhi_pollution_as.shtml" platform="highweb"/></link>

ماہرین اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس منصوبے میں شامل پریشانیوں کے تحت اس کو عملی جامہ پہنانے کے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور ٹوئٹر پر ہیش ٹيگ DelhiOddEvenLogic# ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ اس منصوبے کو تجربے کے طور پر کچھ دنوں کے لیے آزمایا جائے گا اور اگر اس سے مسائل میں بہت اضافہ ہوتا ہے تو اسے روک دیا جائے گا۔

دہلی میں حالیہ دنوں آلودگی کم کرنے کی کوشش کے تحت کار فری ڈے کا بھی عزم سامنے آیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندہلی میں حالیہ دنوں آلودگی کم کرنے کی کوشش کے تحت کار فری ڈے کا بھی عزم سامنے آیا ہے

اخبار ہندوستان ٹائمز کی ’لیڈرشپ سمٹ‘ میں وزیر اعلی کیجریوال نے کہا: ’نظریاتی طور پر ایک فیصلہ کیا گیا ہے۔ کئی چیزیوں پر اب بھی غور و خوض جاری ہے۔ تھوڑے وقت تک منصوبے پر عمل کریں گے۔ شاید 15 دنوں تک۔ اگر بہت سے مسائل ہوتے ہیں تو اسے روک دیا جائے گا۔‘

کیجریوال نے کہا کہ ان کی حکومت اس منصوبے کو پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانے کے بعد نافذ کرنا چاہتی تھی لیکن دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہے جانے کے بعد جس طرح کے حالات پیدا ہوئے اس کے سبب اسے فوری طور پر نافذ کرنا پڑا۔

دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے دہلی حکومت نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ جفت اور طاق نمبروں والی گاڑیوں کو ایک دن چھوڑ کر ہی سڑکوں پر آنے کی اجازت ہوگی۔ یہ منصوبہ یکم جنوری سے نافذ ہونا ہے۔

آلودگی کی سطح دہلی میں خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآلودگی کی سطح دہلی میں خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے

معروف ناول نگار چیتن بھگت کو اس کی مخالفت کرنے پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا تھا: ’ایسے وقت میں جب معاشی ترقی اور روزگار کی ضرورت ہے کوئی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ نصف گاڑیاں سڑک پر نہیں آئے اور پیداوار کو نقصان پہنچائے۔ بہت اچھے۔‘

دوسری جانب سابق وزیر ماحولیات جے رام رمیش نے پیرس سے جہاں عالمی ماحولیات پر کانفرنس جاری ہے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ انھوں نے بھی دہلی میں آلودگی کم کرنے کے لیے وزیر اعلی شیلا دیکشت کے سامنے یہ طریقہ تجویز کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔