بھارت کی ریاست ہریانہ میں جاٹوں کے احتجاج کے بعد کئی شہروں میں کرفیو اور فوج کی تعینات۔
،تصویر کا کیپشنبھارتی ریاست ہریانہ میں جاٹ برادری کی ریزرویشن تحریک سے شروع ہونے والے تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جبکہ آٹھ شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتشدد سے متاثرہ علاقوں میں سنیچر کو کرفیو کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر آ گئے جبکہ روہتک اور جند میں مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں، سرکاری، نجی املاک اور بسوں کو نذرِآتش کر دیا۔
،تصویر کا کیپشنروہتک میں فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارا گیا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں فوج کا فلیگ مارچ جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جھجھر میں جاٹ برادری کے مظاہروں کے دوران فائرنگ اور املاک کو آگ لگانے کی کوشش کو روکنے کے لیے مسلح افواج کی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز جمعے کو روہتک میں نسلی فسادات کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا جبکہ سنیچر کو کرفیو آٹھ شہروں تک بڑھا دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو جاٹ برادری کی جانب سے ملازمت اور تعلیم کے شعبوں میں ریزرویشن کے مطالبات کے لیے ریلی نکالی تھی جس کے بعد صورت حال پر تشدد ہوگئی تھی۔