آپ سبزی خور ہیں یا گوشت خور؟

انڈیا کے کسی شہر میں اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ آپ ویج (سبزی خور) ہیں یا نان ویج (گوشت خور)، تو کئی بار ایسے جواب ملیں گے جو حیران کر دینے والے ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر نیپال سے تعلق رکھنے والی عليشا کا کہنا ہے کہ وہ سبزی خور ہیں لیکن صرف چکن کھاتی ہیں۔
سنہ 2003 میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے ایک سروے کیا تھا جس کے مطابق بھارت میں 42 فیصد لوگ سبزی خور ہیں اور اس کی معاشی اور مذہبی وجوہات ہیں۔
ہندو اور جین مذہب پر سختی سے عمل کرنے والے لوگ گوشت نہیں کھاتے۔
سینٹر فار دا سٹڈی آف ڈیولپمنٹ کے ڈائرکٹر سنجے کمار اور ان کے ساتھی یوگیندر یادو نے سنہ 2006 اور 2015 میں ایسا ہی ایک سروے کرایا تھا جس میں کئی ساری باتیں سامنے آئی تھیں۔

سنجے کمار کہتے ہیں کہ کچھ ایسے لوگ بھی ملے جو پیاز لہسن تو نہیں کھاتے لیکن انڈے کھا لیتے ہیں۔
ہندوستان کی شبیہ کچھ ایسی ہے کہ پہلی نظر میں اس کو سبزی خور ہی کہا جاتا ہے لیکن اعداد و شمار کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں۔
20 سالہ پارتھ کا کہنا ہے کہ وہ گھر میں سبزی خور ہیں اور گھر کے باہر گوشت خور اور اس طرح کے جواب واقعی لاجواب ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کئی بار کسی عام تصور کے برعکس نتائج سامنے آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
سنجے کا کہنا ہے کہ انڈیا کے بارے میں یہ تصور ہے کہ ہندوستان ایک سبزی خور ملک ہے لیکن مختلف سروے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوستان میں گوشت خور لوگ 60 فیصد ہیں جبکہ سبزی خور 35 سے 40 فیصد ہیں۔
کھانے پینے کے رجحانات میں دلچسپی رکھنے والے پروفیسر پشپیش پنت کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ سب کچھ کھاتے ہیں اور اسے اس طرح دیکھا جائے تو ہندوستان کو ہر کچھ کھانے والا ملک کہا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو گوشت خور تو ہیں لیکن پیر کو گوشت نہیں کھاتے یا پھر جمعرات کو سبزی خور بن جاتے ہیں۔
گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بھی اس کی بازگشت سنائی دی اور سبزی خوروں یا گوشت خوروں کی اقسام کا ذکر بھی سامنے آيا ہے۔







