سبزی والی عید کی اپیل سے مسلم ناراض

بھوپال میں مسلم برادری اپنے مذہبی عقائد میں مداخلت پر ناراض ہے

،تصویر کا ذریعہS Niazi

،تصویر کا کیپشنبھوپال میں مسلم برادری اپنے مذہبی عقائد میں مداخلت پر ناراض ہے

بھارت کے شہر بھوپال میں مسلم برادری اس بات پر برہم ہے کہ اسے عید الاضحیٰ کے موقعے پر گوشت کی بجائے سبزی کھانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے معروف ادارے پيپلز فار دی ایتھیكل ٹریٹمنٹ آف اینملز (پیٹا) کے بعض ارکان کو شہر کی مسلم برادری کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

ہوا یوں کہ اس تنظیم کی ایک رکن نظیر ثریا نے شہر کی معروف تاج المسجد کے علاقے میں عید کے تہوار پر گوشت کے بجائے سبزی کے ساتھ منانے کا پیغام دیا۔

انھوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ لوگوں کو گوشت خوری چھوڑ کر سبزی خور بننا چاہیے۔ یہ پیغام دیتے وقت نظیر ثریا پتیوں سے تیار کیے گئے برقعے میں ملبوس تھیں۔

مقامی لوگوں نے ان کی زبردست مخالفت کی۔ مسلم برادری کا کہنا تھا کہ عید پر بکرے کی قربانی کی مخالفت کرنے سے ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قربانی ان کا مذہبی حق ہے جس میں کسی بھی طرح کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

مسلمانوں کو عید پر قربانی نہ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہS Niazi

،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کو عید پر قربانی نہ کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے

مذہب میں مداخلت

بھوپال شہر کے مسلمانوں کا ایک گروہ ان کے اس بیان سے سخت ناراض ہو گیا اور مشتعل ہجوم نے نظیر ثریا پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہاں پر موجود پولیس نے اسے روک دیا۔

اس اپیل کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنے والے شاہد علی کا کہنا تھا: ’جب ہم کسی کے مذہب کے خلاف نہیں بولتے تو ہمارے مذہب میں بھی کسی کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں۔‘

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے مسلم اکثریت والے تاج المسجد کے علاقے میں پیٹا جیسی تنظیم کو اس طرح کا پروگرام کرنے کی اجازت کیوں دی؟

بھارت میں جانوروں سے متعلق اس تنظیم کی سربراہ پوروا جوشي پورا نے نظیر ثریا پر حملے کی کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا ’یہ شرمناک بات ہے کہ ہمارے رکن جو تشدد کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں انھیں ہی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔‘