بھارت: غریب بچوں کے لیے ’مفت انڈوں پر پابندی‘

بھارت میں حال ہی متعدد دیگر ریاستوں نے بھی غربا کے لیے مفت کھانوں میں انڈے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے
،تصویر کا کیپشنبھارت میں حال ہی متعدد دیگر ریاستوں نے بھی غربا کے لیے مفت کھانوں میں انڈے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ نے غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے مفت کھانوں میں انڈے فراہم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ مبینہ طور پر انھوں نے یہ اقدام اس لیے کیا ہے کہ وہ سبزی خور ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شوراج سنگھ چوہان جین مذہبی برادری کے اس عقیدے سے اتفاق کرتے ہیں کہ انڈے کھانے سے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم ان کے اس اقدام کی کوئی واضح وجہ ظاہر نہیں کی گئی ہے اور غذائی قلت کے امور پر کام کرنے والے کارکنوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ بچوں کی نصف سے زیادہ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور انڈوں میں موجود لحمیات (پروٹینز) بچوں میں آسانی سے ہضم ہو جاتی ہیں۔

غذائی قلت کے امور پر کام کرنے والے کارکن سچن جین کا کہنا ہے کہ ریاست میں ویسے بھی غذائی قلت کے شکار لوگوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ’وہ لوگ جو انڈے کھانے اور مفت کی سکیموں میں انڈوں کو شامل کرنے کے خلاف ہیں، وہ سماج کے اۙمرا ہیں اور انھیں ان کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مگر وہی ہیں جو حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘

’جن لوگوں کو اس کھانے کی ضرورت ہے وہ ان عقائد پر یقین نہیں رکھتے۔ دوسری جانب ریاست غذائی قلت کے معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔‘

بھارت میں حال ہی متعدد دیگر ریاستوں نے بھی غریبوں کے لیے مفت کھانوں میں انڈے استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔