’اب مہاراشٹر میں گائے کا گوشت کھانا جرم نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈین ریاست مہاراشٹر میں گذشتہ سال فروری میں گائے کو ذبح کرنے کے حوالے سے نافذ کیے گئے قانون کے کچھ حصوں کو ممبئی ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔
عدالت نے مہاراشٹر میں گئو کشی (گائے کو ذبح کرنا) پر پابندی قائم رکھی ہے، لیکن دوسری ریاستوں سے گائے کے گوشت کی درآمد، اپنے پاس رکھنے اور کھانے سے پابندی ہٹا دی ہے۔
ممبئی کے رہائشی عارف كپاڈيا اور وکیل ہریش جگتياني نے اس قانون کے اس شق کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت اپنے پاس گائے کا گوشت رکھنا بھی ایک جرم تھا۔
كپاڈيا اور جگتياني کا کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندی سراسر غلط اور ممبئی کے کثیر الثقافتی ڈھانچے کے خلاف ہے، کیونکہ یہاں ہر مذہب اور معاشرے کے لوگ رہتے ہیں جن میں سے کئی گائے کا گوشت کھانا چاہتے ہیں۔
اس قانون کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے چیلنج کرنے کے لیے وکیل وشال سیٹھ اور طالب علم شائنا سین نے بھی درخواست دائر کی تھی۔
جمعے کو ہونے والی سماعت میں ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں جانوروں کے تحفظ (ترمیم) کے قانون کو قائم رکھتے ہوئے اس کی کچھ دفعات کو خارج کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب مہاراشٹر میں گائے کا گوشت رکھنا اور کھانا جرم نہیں سمجھا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق دیگر ریاستوں میں سے لائے گئے گائے کے گوشت کی فروخت مہاراشٹر میں کی جا سکتی ہے۔
گذشتہ سال فروری میں صدر کی منظوری کے بعد مہاراشٹر میں جانوروں کے تحفظ (ترمیم) کا قانون ریاست میں لاگو ہو گیا تھا۔ سال 1976 میں بنائے گئے اصل قانون میں گائے کاٹنے پر پابندی تھی، لیکن اس میں ترمیم کے بعد بیل اور بچھڑے کو بھی اس قانون کے دائرے میں لایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ ساتھ گائے کا گوشت کے کھانے اور اپنے پاس رکھنے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس قانون کے مطابق مہاراشٹر میں گائے ذبح کرنے پر پانچ سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اسی قانون کے دیگر دفعات کے مطابق، اگر کسی کے پاس گائے کا گوشت پایا جاتا ہے، تو اسے ایک سال قید اور دو ہزار روپے کا جرمانہ ہو سکتا تھا۔







