گائے کے گوشت پر کشمیر اسمبلی میں مار پیٹ

بیف پارٹی کے دوران بی جے پی کے کچھ ارکان اسمبلی نے وہاں اس کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور کھانے کے سٹال کو توڑنے کی کوشش کی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبیف پارٹی کے دوران بی جے پی کے کچھ ارکان اسمبلی نے وہاں اس کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور کھانے کے سٹال کو توڑنے کی کوشش کی
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان اسمبلی نے جمعرات کو اسمبلی میں ایک آزاد رکن پر تشدد کیا ہے۔

آزاد رکن اسمبلی انجینیئر راشد پر الزام ہے کہ انھوں نے بدھ کو ہوسٹل کے احاطے میں گائے کے گوشت کی پارٹی کا انعقاد کیا تھا۔

اسی پارٹی کے دوران بی جے پی کے کچھ ارکان اسمبلی نے وہاں ان کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور کھانے کے سٹال کو توڑنے کی کوشش کی۔

راشد نے بی بی سی کو بتایا ’ایوان میں کشمیر میں بیف کھانے اور فروخت کرنے پر پابندی کے خاتمے کے لیے لائے گئے میرے بل پر بحث ہونی تھی۔ جیسے ہی میں بولنے کے لیے کھڑا ہوا بی جے پی کے رکن اسمبلی روندر رائنا میرے ساتھ مارپیٹ کرنے لگے۔ بی جے پی کے دیگر ارکان اسمبلی نے ان کا ساتھ دیا۔‘

اپوزیشن پارٹی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ارکان اسمبلی نے اس واقعے کی مخالفت کی۔

ریاست کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ رکن اسمبلی پر ’دادری‘ ہی کی طرح حملہ کیا گیا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ جس مسئلے پر گذشتہ کچھ دن سے ایوان میں ہنگامہ ہو رہا ہے، وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔