دہلی میں بڑا زلزلہ آیا تو کیا ہوگا؟

دہلی
،تصویر کا کیپشندہلی میں عمارتوں کو زلزلہ سے خطرہ ہے کیونکہ یہ جس زمین پر بنائی گئی ہیں اس پر بڑے زلزلے کے اثرات کی تحقیق کی گئی ہے

جنوبی ایشیا میں زلزلے کے بڑھتے واقعات سے ہندوستان میں بھی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

اتوار کو دارالحکومت دہلی سمیت شمالی بھارت کے کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان میں ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر پیمانے پر 6.8 تھی۔

ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر زلزلہ بھارت میں آیا تو دہلی جیسے شہروں پر کتنا اثر پڑے گا؟

بی بی سی کے نامہ نگار نتن شریواستو نے کچھ دیر پہلے اس معاملے پر ماہرین سے بات کی۔

ماہرین سیسمِك زون 4 میں آنے والے بھارت کے تمام بڑے شہروں کے مقابلے میں دہلی میں زلزلے کا خدشہ زیادہ بتاتے ہیں.

مہیش ٹنڈن
،تصویر کا کیپشنسٹرکچرل انجینیئرنگ کے عالمی ماہر پروفیسر مہیش ٹنڈن سمجھتے ہیں کہ دہلی میں زلزلے کے ساتھ ساتھ کمزور عمارتوں سے بھی خطرہ ہے

ممبئی، کولکتہ، چنئی اور بنگلور جیسے شہر سیسمِك زون 3 کے زمرے میں آتے ہیں۔

ارضیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ دہلی کی مشکل یہ بھی ہے کہ وہ ہمالیہ کے قریب ہے جو بھارت اور یوریشیا جیسی ٹیكٹونك پلیٹوں کے ملنے سے بنا تھا اور اسے زمین کے اندر کی پلیٹوں میں ہونے والی ہلچل کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

سٹرکچرل انجینیئرنگ کے عالمی ماہر پروفیسر مہیش ٹنڈن سمجھتے ہیں کہ دہلی میں زلزلے کے ساتھ ساتھ کمزور عمارتوں سے بھی خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے اندازے کے مطابق دہلی کی 70-80 فیصد عمارتیں زلزلے کے جھٹکے برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کی گئی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جمنا دریا کے مشرقی اور مغربی کنارے پر بننے والی عمارتوں کے متعلق خاص طور پر بہت زیادہ فکر کی بات ہے کیونکہ انھیں بنائے جانے سے پہلے مٹی کی پکڑ کی صلاحیت کے متعلق تحقیق نہیں کی گئی۔

گرگاؤں
،تصویر کا کیپشندہلی کے اطراف میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے

دہلی این سی آر کے علاقے کا ایک بڑا مسئلہ آبادی کی کثافت بھی ہے۔ تقریبا ڈیڑھ کروڑ والی دارالحکومت دہلی میں لاکھوں عمارتیں دہائیوں پرانی ہیں اور تمام محلے ایک دوسرے سے ملحق بنے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہلی اور شمالی بھارت میں چھوٹے موٹے جھٹکے آتے ہی رہیں گے لیکن بڑے زلزلے کی واپسی پانچ سو سال میں ضرور ہوتی ہے اور اسی لیے یہ تشویش بھی ہے۔

ویسے بھی دہلی سے تھوڑی دور واقع پانی پت کے علاقے کے پاس بھوگربھ میں فالٹ لائن موجود ہے جس کی وجہ سے دہلی اور اس کے نواح میں زلزلے کے خطرے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔