’معاوضہ نہیں، باپ کا جُوتا ملا تھا‘

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 27 سالہ منیر احمد نے اپنے والد کا وہ جُوتا سنبھال کر رکھا ہے جو انھیں والد کی لاش ڈھونڈنے کے دوران ملا تھا۔
آٹھ اکتوبر 2005 کو اُوڑی کا ’مرن عشم‘ نام کا گاؤں وسیع قبرستان میں بدل گیا تھا۔ کئی دن تک منیر کے والد کی لاش نہیں ملی، پولیس اور رضاکاروں کی مدد سے انھیں اپنے والد کا جوتا ملا جو اس کے والد کی واحد یادگار ہے۔
منیر کہتے ہیں: ’کچھ نہیں بدلا ۔ ہمارے لیے کیا تبدیلی آئے گی۔ ایک این جی او نے عارضی مکان بنایا اور بس۔ حکومت نے کچھ نہیں دیا۔ باپ کی لاش تک نہیں ملی، ایک جوتا ملا اور اب وہی میرا سب کچھ ہے۔‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارتی کشمیر میں زلزلے کی وجہ سے 70 ہزار سے زائد رہائشی مکان جزوی یا مکمل طور تباہ ہو گئے اور قریب ڈیڑھ ہزار لوگ مارے گئے۔ سرینگر سے شمال کی جانب سو کلومیٹر کی دُوری پر واقع مرن عشم گاوں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے۔
وادی میں شمالی کشمیر کے کپوارہ اور بارہ مولا اضلاع کے پہاڑی علاقے سب سے زیادہ متاثر رہے۔ ان میں اُوڑی، ٹنگڈار اور کرنا قابل ذکر ہیں۔ اُوڑی میں آج بھی گوالتا، جبلا، مدانن، چورندڈا اور لیمبر جیسی بستیوں میں آج بھی لوگ معاوضے کی خاطر سرکاری دفتروں کا طواف کرتے ہیں۔

اُوڑی قصبے میں 400 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے 30 سے زائد کی لاشیں تک نہیں ملیں۔
عشم کے رہنے والے نذیر احمد عباسی کہتے ہیں: ’میرا جوان بیٹا مرا۔ اس کے دو بچے بھی تھے۔ حکومت نے مکان کے لیے پیسہ دیا لیکن لڑکے کی موت کا معاوضہ نہیں دیا حالانکہ عدالت نے ایک لاکھ 35 ہزار روپے کے معاوضہ کا اعلان کیا تھا۔‘
گوالتا کے رہنے والے عبدالرشید کہتے ہیں کہ ایک لاکھ روپے کے سرکاری معاوضے کے لیے کلرک سے پٹواری تک 30 ہزار روپے کی رشوت دینا پڑتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک درجن سے زائد تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں: ’جنگ ہو یا قدرتی آفات، کشمیر کے بارے میں حکومت ہند کی ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے مجرمانہ غفلت۔ زلزلے کے بعد حکومت ہند کی سرکاری اور فوجی تعمیرات میں اُن ضوابط کا لحاظ رکھا جارہا ہے جو زلزلے کے دوران جانی نقصان کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
خرم کہتے ہیں کہ حکومت نے انہی جگہوں پر عارضی پناہ گاہیں تعمیر کی ہیں جہاں پر زلزلے سے مکان زمین بوس ہوگئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار وارننگ کے باوجود حکومت ابھی تک انسداد بحران کی کوئی پالیسی مرتب نہیں کر پائی ہے۔ ارضیات کے ماہر پروفیسر محمد اسماعیل بٹ کہتے ہیں: ’پچھلے چند برسوں سے جو جی پی ایس ڈیٹا ملا ہے، اس سے لگتا ہے کہ کشمیر میں زمین اور پہاڑوں کے اندر تناؤ بڑھ رہا ہے اور کبھی بھی زلزلہ آ سکتا ہے۔ اور اس بار بہت بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تو انھیں بتایا گیا کہ یہ بات باہر آئی تو سیاحت پر اثر پڑے گا۔
قابل ذکر ہے کہ سنہ 2005 کے زلزلے کے بعد حکومت نے انسداد بحران کے لیے ایک علیحدہ محکمہ بنایا جس نے سکولوں اور دفتروں میں آگہی مہم کے علاوہ تعمیرات کے لیے ضابطے ترتیب دینے کا کام شروع کیا۔ لیکن کئی سال سے یہ محکمہ بغیر کسی سربراہ کے ہے ۔
حکومت کا کہنا ہے کہ زلزلے یا سیلاب جیسی آفات سے بچاؤ اور جانی نقصان کم کرنے کی خاطر ایک جامع پالیسی بنائی جا رہی ہے، تاہم ابھی تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔







