پٹھان کوٹ حملہ: بھارتی ٹیم بھی پاکستان جائےگی

پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم نے پٹھانکوٹ کے ایئر بیس پر شواہد اکٹھے کیے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی تحقیقاتی ٹیم نے پٹھانکوٹ کے ایئر بیس پر شواہد اکٹھے کیے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کا کہنا ہے کہ پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں جس طرح پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھارت آئی ہے اسی طرح ہی بھارتی تحقیقاتی ٹیم بھی پاکستان جائے گی۔

بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے پاکستان تحقیقاتی ٹیم کے پانچ روز دورہ کے اختتام پر دلی میں بتایا کہ ابھی اِن کی ٹیم کے دورے کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

’ہم نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ہماری این آئی اے کی ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے کیونکہ یہ سازش اس ملک میں تیار کی گئی تھی۔ انھوں نے اس خیال کی تائید کی اور اب تاریخوں کو بعد میں طے کیا جائے گا۔‘

اس سے قبل بدھ کو این آئی اے کے سربراہ نے کہا تھا کہ ’ملزمان کو سزا دلانے کے لیے پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہم جو تعاون کر رہے ہیں، اسی طرح کا تعاون بھارتی ٹیم کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔اس بات پر ہمارے درمیان پہلے سے اتفاق ہے۔ آج سے (پاکستانی ٹیم کو) دستاویزات اور شواہد دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس کے علاوہ گواہوں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ زیادہ سے زیادہ ایک دو دن اور چلے گا۔‘

پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم نے بھارت میں پانچ روز گزارے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی تحقیقاتی ٹیم نے بھارت میں پانچ روز گزارے

انھوں نے کہا کہ این آئی اے نے پاکستان کی ٹیم کو جیش محمد کے عہدیداران اور دہشت گردوں کے ہینڈلرز کے خلاف ٹھوس ثبوت دیے ہیں جنھوں نے یہ سازش تیار کی تھی اور انھیں رہنمائی اور مدد فراہم کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ این آئی اے نے پاکستانی ٹیم سے جیش محمد کے سینیئر رہنماؤں کی آوازوں کے نمونے طلب کیے ہیں۔ تاہم این آئی اے کے ذرائع کے مطابق انھوں نے جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف اصغر کے علاوہ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک مبینہ دہشت گرد ناصر حسین کی والدہ کی آواز کے نمونے طلب کیے ہیں۔ این آئی اے کے مطابق ناصر نے حملے سے پہلے ان سے فون پر بات کی تھی۔

شرد کمار نے کہا کہ انھوں نے ناصر کی والدہ کے ڈے این اے سیمپل کی بھی درخواست کی ہے۔

بھارت کا الزام ہے کہ پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں جیش محمد ملوث ہے۔

پاکستانی تفیش کاروں کو سولہ گواہوں سے پوچھ گچھ کرنے کا بھی موقع دیاگیا جن میں پولیس کے ایس پی سلوندر سنگھ بھی شامل تھے۔ شدت پسندوں نے سلوندر سنگھ کی ہی گاڑی کو اغوا کیا تھا لیکن بعد میں انھیں اور ان کے ساتھ گاڑی میں سوار دو دیگر افراد کو چھوڑ دیاگیا تھا۔