پٹھان کوٹ: بھارت جیسے تعاون کے لیے پاکستان تیار

پٹھان کوٹ کے ایئربیس پر جنوری میں حملہ ہوا تھا جس میں چھ فوجی ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپٹھان کوٹ کے ایئربیس پر جنوری میں حملہ ہوا تھا جس میں چھ فوجی ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کا کہنا ہےکہ جس طرح کا تعاون پاکستانی تفتیش کاروں کو فراہم کیا جا رہا ہے، پاکستان بھی بھارتی تفتیش کاروں کے ساتھ اسی طرح کا تعاون کرے گا۔

بھارت میں انسدادِ دہشت گردی کے تفتیشی ادارے (این آئی اے) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں گرفتاریاں کی ہیں اور دورہ کرنے والی ٹیم نے ان کی تفصیلات فراہم کی ہیں جنھیں ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم اتوار سے بھارت میں ہے اور منگل کو اس نے پٹھان کوٹ کی اس ایئر بیس کا دورہ کیا تھا جسے مبینہ طور پر پاکستان سے آنے والے شدت پسندوں نے جنوری میں نشانہ بنایا تھا۔

این آئی اے کے سربراہ شرد کمار نے کہا کہ ’ملزمان کو سزا دلانے کے لیے پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہم جو تعاون کر رہے ہیں، اسی طرح کا تعاون بھارتی ٹیم کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔۔۔اس بات پر ہمارے درمیان پہلے سے اتفاق ہے۔ آج سے (پاکستانی ٹیم کو) دستاویزات اور شواہد دینے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس کے علاوہ گواہوں سے پوچھ گچھ کا سلسلہ زیادہ سے زیادہ ایک دو دن اور چلے گا۔‘

شرد کمار کے مطابق پاکستانی ٹیم نے پاکستان کے اندر ہونے والی تفتیش سے بھی این آئی اے کو آگاہ کیا ہے لیکن اس کی تفصیلات بتانے سے انھوں نے انکار کر دیا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھی اسی طرح کے تعاون کی بات کہی ہے جو اسے یہاں فراہم کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھی اسی طرح کے تعاون کی بات کہی ہے جو اسے یہاں فراہم کی جا رہی ہے

اس سے قبل این آئی اے نے پاکستانی ٹیم سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف اصغر کی آوازوں کے نمونے طلب کیے تھے۔ بھارت کا الزام ہے کہ پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں جیش محمد ملوث ہے۔

اسی دوران بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خفیہ ایجنسی را کے مبینہ ایجنٹ کا جو ویڈیو جاری کیا ہے، وہ فرضی ہے اور اس شخص کا کسی حکومتی ادارے سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت کے سفارتی عملے کو ابھی تک کل بھوشن جادھو نامی اس شخص سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ’را کے مبینہ ایجنٹ کے طور پر پیش کیے جانےوالے کلبھوشن جادھو بحریہ کے سابق افسر ہیں اور اب ایران میں کاروبار کرتے ہیں۔ اور وہ غیر واضح حالات میں پاکستان کی تحویل میں ہیں۔ ویڈیو میں وہ جو بیان دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اور یہ بات ناقابل یقین ہے کہ وہ یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کہہ رہے ہیں۔‘

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس الزام کو مسترد کیا گیا ہے کہ کلبھوشن جادھو حکومت کی ایما پر بلوچستان میں تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

بھارت پاکستانی تنظیم جیش محمد پر حملے کا الزام لگاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت پاکستانی تنظیم جیش محمد پر حملے کا الزام لگاتا ہے

بیان کے مطابق پاکستان میں ان کی موجودگی سے یہ شبہہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں انھیں ایران سے اغوا تو نہیں کیا گیا۔ حکومت کے مطابق صورتحال اس وقت ہی واضح ہوگی جب بھارتی سفارتکاروں کو ان سےملنے دیا جائے گا۔

بھارت کے نائب وزیر داخلہ کرن رجیجو نے بھی آج کہا کہ ’یہ ویڈیو فرضی ہے اور بھارت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ادھر کانگریس کا کہنا ہے کہ کلبھوشن جادھو کی پاکستان میں موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان امن کی بحالی کی کوششوں میں سنجیدہ نہیں ہے۔

پارٹی کے ترجمان آنند شرما نے کہا کہ پٹھان کوٹ پر حملے کی تفتیش کے لیے پاکستانی تفتیش کاروں کو بھارت آنے کی اجازت دیا جانا، بھارتی سفارتکاری کی ایک بڑی ناکامی ہے۔