پاکستانی تحقیقاتی ٹیم انڈیا پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہAFP
پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش کے لیے پاکستانی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم انڈیا پہنچ گئی ہے۔
انڈیا کے خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پاکستانی ٹیم اتوار کی صبح دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچی۔ یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پیر کے روز سے پٹھان کوٹ جا کر انڈین فضائیہ کے اس ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کرے گی۔
انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائےاس پانچ رکنی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے متعلق مشیر سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے درمیان نیپال کے شہر پوکھرا میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس ٹیم کی روانگی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان کی جے آئی ٹیم 27 مارچ کی رات بھارت پہنچے گی اور 28 مارچ سے پٹھان کوٹ واقعے کے حوالے سے کام شروع کرے گی۔
اس سے پہلے فروری کے مہینے میں پنجاب کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس ٹیم کے کنوینر ہوں گے۔
اس کے علاوہ سول انٹیلیجنس ایجنسی آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عظیم ارشد، انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، ملٹری اینٹلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا اور محکمۂ انسداد دہشت گردی گجرانوالہ کے انسپکٹر شاہد تنویر بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔
پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں پاکستان میں فروری کے مہینے میں پہلے ہی تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد اس حملے میں ملوث ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق کس گروہ یا تنظیم سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اس سال دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کہ چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔







