قندوز میں ہسپتال پر حملہ، امریکی فوجیوں کو سزا

کچھ اہکاروں کی باضابطہ سرزنش کی گئی ہے جبکہ دیگر کو ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکچھ اہکاروں کی باضابطہ سرزنش کی گئی ہے جبکہ دیگر کو ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے

امریکی فوج نے افغانستان کے شہر قندوز میں فلاحی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے ہسپتال پر فضائی حملے میں ملوث ایک درجن سے زائد اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی ہے۔

گذشتہ سال ہونے والے اس حملے میں 42 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

جمعرات کو پینٹاگون نے تسلیم کیا کہ ہسپتال کو غلطی سے نشانہ بنایا گیا تھا تاہم کوئی اہکار مجرمانہ مقدمے کا سامنا نہیں کرے گا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اہلکاروں پر انتظامی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاہم ان کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

کچھ اہکاروں کی باضابطہ سرزنش کی گئی ہے جبکہ دیگر کو ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔

افسروں اور اہکاروں کو انضباطی کارروائی کا سامنا ہے تاہم کسی جنرل کو سزا نہیں دی گئی ہے۔

دوسری جانب امدادی طبی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ پیٹاگون کی جانب سے تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرنے تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

یہ انضباطی کارروائی پینٹاگون کی جانب سے حملے کی تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔ ان تحقیقات کے بارے میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ آئندہ ہفتے تک ایک رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔

افغان حکام کا کہنا تھا کہ اس عمارت پر طالبان جنگجؤں نے قبضہ کر لیا تھا تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنافغان حکام کا کہنا تھا کہ اس عمارت پر طالبان جنگجؤں نے قبضہ کر لیا تھا تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے

واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ایک امریکی گن شپ نے افغانستان کے شہر قندوز میں قائم ایک ہسپتال پر گولہ باری کی تھی۔ اس وقت طالبان جنگجوؤں نے سنہ 2001 کے بعد اس شہر پر دوبارہ قبضہ کیا تھا۔

افغان حکام کا کہنا تھا کہ اس عمارت پر طالبان جنگجؤں نے قبضہ کر لیا تھا تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے۔

ایم ایس ایف نے اپنے ہسپتال پر حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ طبی عملے کو جنگجوؤں کا علاج کرنے کی سزا نہیں دی جا سکتی اور اس بات پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں موجود ہسپتالوں پر حملے نہ کیے جائیں اور جنگجوؤں کو بلا امتیاز علاج فراہم کیا جائے۔

اس وقت افغانستان میں امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل نے کہا تھا کہ ہسپتال پر بمباری ایک ’غلطی‘ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کبھی بھی دانستہ طور پر ایک محفوظ ہسپتال کو نشانہ نہیں بناتی۔

ہسپتال پر بمباری پر امریکی صدر براک اوباما نے بھی معذرت طلب کی تھی۔